گھر واپس آنے کے بعد والدین مجھے اور زیادہ محبت دیتے ہیں، دعا زہرا

بی بی سی اُردو سے گفتگو میں دعا زہرا نے بتایا کہ گھر واپسی کے بعد والدین نے انہیں مزید محبت اور عزت دی ہے؛ ان کا مقدمہ کراچی کی عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔

کراچی (سٹاف رپورٹر) بی بی سی اُردو سے بات میں دعا زہرا نے بتایا ہے کہ گھر واپسی کے بعد اُن کے والدین نے انہیں ’اور زیادہ محبت اور عزت‘ دی ہے اور ان کا مقدمہ اب بھی کراچی کی عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔

دعا زہرا نے بی بی سی اُردو کو بتایا ہے کہ اپریل 2022 میں لاپتہ ہونے اور بعد ازاں واپس آنے کے واقعے کے بعد اُن کی زندگی میں تبدیلی آئی ہے۔ اب وہ اپنے والد، والدہ اور بہن کے ساتھ کراچی میں رہتی ہیں اور پری میڈیکل کی تعلیم جاری رکھے ہوئے ہیں۔

دعا نے کہا کہ ’میرے والدین پہلے بھی مجھ سے محبت کرتے تھے اور جب میں گھر واپس آ گئی ہوں تو وہ مجھے اور زیادہ محبت اور عزت دیتے ہیں۔‘ وہ بتاتی ہیں کہ لوگ اب ان کے وی لاگز دیکھتے اور اُنہیں پہچانتے ہیں، اور انہیں دوستوں، اساتذہ اور رشتہ داروں کی جانب سے مثبت رویہ مل رہا ہے۔

ماخذ کے مطابق دعا زہرا کے والد مہدی کاظمی نے 16 اپریل 2022 کو کراچی کے ایک تھانے میں اپنی بیٹی کے لاپتہ ہونے کا مقدمہ درج کروایا تھا۔ چند روز بعد دعا کی ایک ویڈیو سامنے آئی جس میں اُنہوں نے کہا کہ وہ اپنی مرضی سے گئی تھیں اور لاہور میں شادی کر لی تھی۔ اس واقعے کے بعد عدالت نے عمر کے تعین کے لیے طبی معائنے کے احکامات دیے تھے اور مختلف میڈیکل رپورٹس پیش کی گئیں جن میں عمر کے اندازے 15 سے 17 سال کے درمیان بتائے گئے۔

بعد ازاں سندھ پولیس نے 24 جولائی 2022 کو دعا کو لاہور سے کراچی واپس لایا اور ابتدائی طور پر انہیں چائلڈ پروٹیکشن سینٹر میں رکھا گیا۔ جولائی 2022 میں عدالت نے سماعت کے دوران انہیں حکومت کے زیرِ انتظام شیلٹر ہوم میں رہنے کا حکم دیا تھا، مگر جنوری 2023 میں سندھ ہائیکورٹ نے انہیں عارضی طور پر والدین کے حوالے کرنے کا حکم دیا۔

دعا کے والدین نے بی بی سی کو بتایا کہ لاپتہ ہونے کے بعد وہ اپنی بیٹی کو تلاش کرنے کے لیے متعدد جگہیں چیک کرتے رہے اور دعا کی واپسی پر انہوں نے شکر ادا کیا۔ والدہ صائمہ کاظمی نے بتایا کہ جب دعا زندہ ہونے کا علم ہوا تو اُن کی خوشی صرف یہی تھی کہ بیٹی زندہ ہے۔

مصادر نے بتایا ہے کہ مقدمہ اب بھی کراچی کی عدالت میں زیرِ سماعت ہے اور مہدی کاظمی کے مطابق سمعات ہر دو ماہ بعد ہوتی ہیں، جبکہ مخالف فریق کی جانب سے معاملے کے کچھ پہلوؤں پر اختلافات موجود رہے۔

دعا نے اپنی موجودہ زندگی اور مستقبل کے بارے میں بھی بات کی؛ وہ کالج میں پری میڈیکل کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں، اپنے بہن کے ساتھ وی لاگز بناتی ہیں اور بتایا کہ وہ مستقبل میں پاکستان کے لیے کچھ کرنا چاہتی ہیں، حتیٰ کہ انہوں نے پاکستان نیوی میں بطور افسر شمولیت کی خواہش ظاہر کی۔

بی بی سی اُردو کی جانب سے کی گئی یہ تازہ گفتگو اس بات کی عکاس ہے کہ واقعے کے چار سے زائد سال بعد دعا زہرا اپنی فیملی کے ساتھ رہ رہی ہیں، سماجی ردِعمل الگ الگ رہا مگر خاندان کے اندر اُنہیں قبولیت اور حمایت حاصل ہے، جبکہ قانونی کارروائی ابھی جاری ہے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 2758