منی پور میں ناگا رہنما نے چین سے مدد مانگنے یا چینی پرچم لہرانے کی دھمکی دے دی

ناگا رہنما یار چوئسو کاشونگ نے منی پور میں ناگا شہریوں کی حفاظت نہ ہونے کی صورت میں چین سے مدد مانگنے یا چینی پرچم لہرانے کی دھمکی دی ہے؛ گزشتہ ماہ 50 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔

لاہور (ویب ڈیسک) ناگا برادری کی تنظیم کے رہنما یار چوئسو کاشونگ نے منی پور میں ناگا شہریوں کی بڑھتی ہلاکتوں پر کہا ہے کہ اگر ریاستی اور مرکزی حکومتیں ناگا لوگوں کا تحفظ یقینی نہ کریں تو وہ چین جیسے پڑوسی ملکوں سے مدد مانگنے یا چین کا پرچم لہرانے پر مجبور ہو جائیں گے۔

ناگا طلبہ اور سول سوسائٹی کی تنظیم ’تھنگ کول آزے کٹمناؤ لونگ‘ کے صدر یار چوئسو کاشونگ نے پریس کانفرنس میں ان دعوؤں کا اعادہ کیا اور الزام لگایا کہ کوکی برادری کے جنگجو برما سے آ کر ناگا برادری پر حملے کر رہے ہیں۔

بشپورتھ بی بی سی اردو کے مطابق یار چوئسو کاشونگ نے مطالبہ کیا کہ ان ہلاکتوں کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے اور کہا کہ ریاستی اور مرکزی حکومتیں حساس علاقوں میں ناگا شہریوں کا تحفظ کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا: “اگر منی پور اور انڈیا کی حکومت ریاست کے اصل باشندوں (ناگا) کا تحفظ نہیں کرنا چاہتی یا ایسا کرنے کی اہل نہیں ہے، تو لوگوں کے پاس چین جیسے پڑوسی ملکوں سے مدد مانگنے یا چین کا پرچم لہرانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔”

بی بی سی اردو کے مضمون میں کہا گیا ہے کہ منی پور میں حالیہ مہینوں میں ہونے والے تصادم میں کم از کم 50 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ ریاستی اسمبلی کی ایک رپورٹ میں مجموعی طور پر کم از کم 300 افراد کی ہلاکت اور 60 ہزار سے زائد افراد کے بے گھر ہونے کا ذکر ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ناگا، کوکی اور میتئی برادریوں کے درمیان زمین اور تاریخی حقوق کے تنازع نے کشیدگی کو ہوا دی ہے، اور بعض مقامی مسلح گروہ جدید ہتھیاروں اور جنگی تربیت سے لیس ہیں۔ بی بی سی نے مقامی اداریوں کے مطابق سرحدی پوزیشنز اور برما کے قریب علاقوں میں عسکریت پسند نقل و حرکت کی نشاندہی بھی کی ہے۔

تحقیق کاروں اور مقامی صحافیوں کے بقول اس دیرینہ کشمکش کے زخم 1990 کی دہائی کے جھڑپوں سے باقی تھے اور حالیہ واقعات نے انہیں دوبارہ کھول دیا ہے۔ بی بی سی اردو کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ گذشتہ مہینوں میں ہونے والی ہلاکتوں کی اکثریت مخصوص دو مہینوں — اگست اور ستمبر — میں ہوئی ہے، اور صورت حال اب بھی غیر مستحکم ہے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 2760