اٹک (سٹاف رپورٹر) پنجاب کے محکمہ جیل خانہ جات کے ڈسٹرکٹ جیل اٹک کے سپرنٹنڈنٹ عمران برتھ کو مبینہ طور پر آئی جی جیل خانہ جات کو دو لاکھ روپے رشوت کی پیشکش کرنے کے الزام میں گرفتار کر کے معطل کیا گیا ہے۔
پنجاب کے محکمہ داخلہ نے ڈسٹرکٹ جیل اٹک کے سپرنٹنڈنٹ عمران برتھ کو کرپشن اور بدعنوانی کے الزامات کی بنیاد پر عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے ان پر الزام عائد کیا ہے کہ انھوں نے آئی جی جیل خانہ جات پنجاب میاں سالک جلال کے گھر ملاقات کے دوران ایک لفافے میں پیسے رکھ کر رشوت پیش کرنے کی کوشش کی۔
آئی جی میاں سالک جلال نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ سپرنٹنڈنٹ پہلے ملاقات کے لیے آئے، پھول اور کیک بھی لائے اور ملاقات کے دوران بات چیت ہوئی۔ بعد ازاں رات کو وہ دوبارہ آئے اور ڈرائنگ روم کی میز پر ایک لفافہ رکھ کر کہا کہ ‘سر میں آپ کو یہ دینا بھول گیا تھا’۔
ان کے بقول انھوں نے فوری طور پر سارجنٹ کو بلایا اور گھر میں موجودہ حکام کو طلب کیا، پھر اینٹی کرپشن ٹیم کو بلایا گیا۔ اینٹی کرپشن ٹیم نے لفافہ کھول کر پیسے گنے تو اس میں 200000 روپے موجود تھے، جن کی ریکوری کی گئی اور عمران برتھ کو گرفتار کر لیا گیا۔
آئی جی جیل خانہ جات میاں سالک جلال نے کہا کہ ان کے 33 سالہ کیرئیر میں یہ پہلی مرتبہ ہے کہ کسی افسر نے نوٹوں سے بھرا لفافہ لا کر ان کے سامنے رکھ دیا۔ انھوں نے کہا کہ محکمہ میں کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
حکام نے اس کارروائی کو اہم قرار دیا ہے کیونکہ اس میں جیل خانہ جات کے ایک اہم انتظامی عہدے پر فائز افسر کے خلاف مبینہ رشوت ستانی کا الزام شامل ہے۔ مزید قانونی کارروائی اور تحقیقات اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب کی طرف سے قانون کے مطابق جاری ہیں۔
ڈی جی اینٹی کرپشن سہیل ظفر چٹھہ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ پنجاب میں کرپشن میں کمی آئی ہے اور ‘لوگ پیسے لیتے ہوئے ڈرتے ہیں’، انہوں نے اس واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کے بعد پیسے دینے والے بھی ڈریں گے اور اس سے کلچر میں بہتری آئے گی۔




