لاہور (سٹاف رپورٹر) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ ان کے گورنر ہاؤس میں بلائے گئے اجلاس کا مقصد صرف صوبے کی صورتحال سے آگاہی حاصل کرنا تھا اور وہ کسی افسر کی ٹرانسفر یا فنڈز کی مانگ کے ذمہ دار نہیں تھے۔
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بی بی سی اُردو کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں واضح کیا کہ حالیہ دنوں میں گورنر ہاؤس میں جو اجلاس طلب کیا گیا اس کا مقصد صوبے کی مجموعی صورتحال کی بریفنگ لینا تھا، نہ کہ کسی افسر کی تبادلے یا فنڈز کے اجراء کی ہدایت دینا۔ انہوں نے کہا، “میں نے خیبرپختونخوا کے آئی جی صاحب کو کسی ٹرانسفر پوسٹنگ کا نہیں کہا، میں نے چیف سیکرٹری سے کسی فنڈز کا نہیں کہا۔ میں نے (اُن سے) صرف صوبے کی صورتحال کا پوچھا۔”
کنڈی نے صوبائی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت “گورنر راج نہیں ہے بلکہ نالائق حکومت مسلط ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ اگر صوبے کا چیف ایگزیکٹو اپنے اختیارات استعمال نہیں کر پا رہا اور عوام کے اٹھائے گئے مسائل حل نہیں کروا سکتا تو اخلاقی طور پر اسے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔
گورنر نے کہا کہ گورنر آئین کے تحت صوبائی امور اور امن و امان پر اجلاس طلب کر سکتا ہے اور اس ضمن میں جو بریفنگ دی گئی اس میں افغان پناہ گزینوں سمیت دیگر اہم صوبائی مسائل زیرِ بحث آئے۔ انہوں نے بتایا کہ اُن ملاقاتوں میں تحریک انصاف کے لانگ مارچ اور خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں پیش آنے والے واقعات پر بھی بات ہوئی اور یہ فیصلہ ہوا کہ صوبہ دہشت گردوں کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔
گورنر نے یہ بھی کہا کہ اگر صدر، وزیراعظم اور متعلقہ ادارے سمجھیں کہ صوبے کو بچانے کے لیے آئینی شقوں کے تحت ایمرجنسی یا گورنر راج لگانے کی گنجائش موجود ہے تو وہ آرٹیکل 232 اور 234 کے مطابق یہ اقدام کر سکتے ہیں۔ انہوں نے اس بارے میں سابقہ مثالیں بھی یاد دلائیں اور کہا کہ آئین کی کتاب کے مطابق عمل کیا جائے گا۔
وفاق اور صوبے کے درمیان سکیورٹی اور مالی تعاون کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اجلاس باقاعدگی سے ہوتے ہیں مگر صوبائی حکومت ان میں شریک نہیں ہوتی۔ کنڈی نے وزیرِاعلیٰ کے اس دعوے کا حوالہ دیا کہ ہیوی میکینیکل کمپلیکس کو فنڈز جاری ہونے کے باوجود اشیا کی فراہمی میں تاخیر ہوئی، تاہم اُن کے مطابق متعلقہ ریکارڈ چیک کرنے پر معلوم ہوا کہ اشیا شیڈول کے مطابق فراہم ہو رہی تھیں۔
تحریک انصاف کے احتجاج اور مذاکرات کے بارے میں گورنر کا کہنا تھا کہ پرامن احتجاج ہر جماعت کا قانونی حق ہے، مگر ماضی میں پی ٹی آئی کے مظاہروں میں انتشار بھی دیکھا گیا۔ انہوں نے اپوزیشن مذاکرات کی پیشکشوں پر عدم پیش رفت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بعض سیاسی رہنما بات چیت میں شامل ہونے کے باوجود بعد ازاں عملدرآمد نہیں کر پائے۔




