پشاور (سٹاف رپورٹر) کے پی حکومت نے وفاق کی دہشت گردی کے خلاف پالیسی پر عمل سے گریز کیا ہے اور وفاقی حکومت خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج لگانے کے آپشن پر غور کر رہی ہے، یہ خبریں اور تجزیاتی نشاندہی دونوں شائع ہوئی ہیں۔
کے پی حکومت کی جانب سے وفاقی سطح کی دہشت گردی کے خلاف پالیسی پر عمل نہ کرنے کی اطلاع شائع ہوئی ہے۔ اسی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت خیبرپختونخوا میں صورتِ حال کے پیش نظر ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ کرنے پر غور کر رہی ہے۔
ذرائع نے تجزیہ نگاروں کی نشاندہی کے حوالے سے سوال اٹھایا ہے کہ جب وفاق اور صوبائی حکومتیں ایک ہی سمت میں نہ ہوں تو دہشت گردی کے خلاف حکمتِ عملی کا کیا نتیجہ نکلے گا۔ اسی صدائے تشویش میں یہ بھی پوچھا گیا ہے کہ تقسیمِ پالیسی سے دہشت گردی کا خطرہ کتنا بڑھ سکتا ہے۔
شائع شدہ مواد میں تجزیہ کار سلیم صافی کا حوالہ بھی شامل ہے، جو اس موضوع پر تجزیاتی کوریج کر رہے ہیں۔ فی الحال رپورٹ میں کسی باضابطہ تاریخ، مجوزہ نفاذی عمل یا متعلقہ محکموں کے حتمی فیصلے کا ذکر موجود نہیں۔
حقیقی اثرات کا انحصار آئندہ وفاقی یا صوبائی فیصلوں پر ہوگا، خاص طور پر اگر ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ کیا گیا تو اس کے آئینی اور انتظامی نتائج سامنے آئیں گے۔ شائع شدہ مواد فی الحال صورتحال کی اطلاع اور اس کے ممکنہ نتائج پر گفتگو تک محدود ہے۔




