لاہور (سٹاف رپورٹر) مولانا نے انکشاف کیا ہے کہ طالبان کی وجہ سے ڈیرہ اور دیگر اضلاع میں رات کے بعد سفر ممکن نہیں، وہاں حکومتی رٹ ختم ہوگئی ہے اور طالبان مولانا کے رشتہ داروں تک سے بھتہ مانگتے ہیں۔
راؤف کلسرا کی رپورٹ کے مطابق مولانا نے دعویٰ کیا ہے کہ طالبان کی موجودگی کی وجہ سے ڈیرہ اور کچھ دیگر اضلاع میں رات کے بعد سفر ناممکن ہو گیا ہے اور حکومتی رٹ ختم ہو چکی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان نے ایسا اثر و رسوخ قائم کر رکھا ہے کہ مقامی لوگ رات کو سفر کرنے سے ڈرتے ہیں اور سکیورٹی کے خدشات عام ہیں۔ مولانا نے یہ بھی کہا کہ طالبان نے ان کے رشتہ داروں سے بھتہ مانگا ہے، جو اس علاقے میں گروپ کے مالیاتی کنٹرول کی نشاندہی کرتا ہے۔
رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ جب فوج آپریشن کی نیت رکھتی ہے تو سیاسی رہنماؤں میں سے سہیل آفریدی ایسے اقدامات کرتے ہیں جو آپریشن کی راہ میں حائل ہوں؛ “اب جب فوج آپریشن کرنا چاہتی ہے تو سہیل آفریدی ٹینک کے آگے کھڑے ہو جاتے ہیں،” رپورٹ میں یہ موقف نقل کیا گیا ہے۔
ماخذ نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ مولانا صوبائی حکومت کے ساتھ ہیں یا وفاقی حکومت کے، تاہم رپورٹ میں اس سوال کا حتمی جواب موجود نہیں۔
مذکورہ بیانات رپورٹ شدہ الزامات اور انکشافات ہیں جنہیں رپورٹ میں نسبت کے طور پر پیش کیا گیا ہے؛ مضمون خود متنازعہ دعوؤں کی کانٹینٹ پر مبنی ہے اور ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق کے حوالے سے اضافی ذرائع یا سرکاری جواب شامل نہیں ہے۔




