سردار حسین بابک کا الزام: پی ٹی آئی 2013 سے فیض حمید اور دہشتگردوں کے تعاون سے پختونخوا پر حکمرانی کر رہی ہے

سردار حسین بابک نے الزام لگایا ہے کہ پی ٹی آئی 2013 سے فیض حمید اور دہشتگردوں کے تعاون سے خیبر پختونخوا پر حکمرانی کر رہی ہے اور صوبہ دہشتگردوں کے لیے کھلا میدان بن گیا ہے۔

لاہور (سٹاف رپورٹر) جماعت اسلامی کے رہنما سردار حسین بابک نے الزام لگایا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف 2013 سے فیض حمید اور دہشتگردوں کے تعاون سے خیبر پختونخوا پر حکمرانی کر رہی ہے اور اس دوران صوبہ دہشتگردوں کے لیے کھلا میدان بن گیا ہے۔

سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ 2013 کے بعد سے خیبر پختونخوا کو دہشتگردوں اور شرپسندوں کے لیے کھلا چھوڑ دیا گیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ صوبائی حکومت اور خاص طور پر وزیراعلیٰ ’سستی شہرت‘ کے پیچھے بھاگتے ہوئے اپنے فرائض سے لاپرواہی برت رہے ہیں اور نتیجتاً صوبہ دہشتگردوں کے رحم و کرم پر ہے۔

بابک کے بقول پی ٹی آئی کی حکمرانی میں فیض حمید کا کردار اور مبینہ تعاون صوبے کی سکیورٹی صورتحال کو متاثر کرنے والا عنصر رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ تعاون صوبے میں عدم استحکام اور امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی ایک وجہ ہے۔

یہ بیانات اسی جماعتی رہنما کی طرف سے جاری کئے گئے ہیں جنہوں نے واضح طور پر پی ٹی آئی اور مخصوص شخصیات کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ رپورٹ کے متن میں براہِ راست حوالہ دیا گیا ہے: “پی ٹی آئی، 2013 سے فیض حمید اور دہشتگردوں کے تعاون سے پختونخوا کی حکمران ہے، سردار حسین بابک۔”

اب تک وزیرِاعلیٰ یا پی ٹی آئی کے نمائندوں کی طرف سے اس الزام کا فوری رد عمل یا تفصیلی جواب اسی ماخذ میں شامل نہیں کیا گیا۔ اس لیے یہ بیانات بطور الزامات رپورٹ کیے جا رہے ہیں۔

ماخذ کے مطابق سردار حسین بابک نے عوامی سطح پر صوبائی انتظامیہ کی کارکردگی، سکیورٹی حکمتِ عملی اور ریاستی ذمہ داریوں کے بارے میں سخت تشویش کا اظہار کیا ہے اور ان مسائل کی نشان دہی کرتے ہوئے فوری اصلاحات اور جواب طلبی کا مطالبہ کیا ہے۔

مزید تفصیلات یا دونوں فریقوں کے درجِ ذیل ردِ عمل جب دستیاب ہوں گے تو اُن کا حوالہ دیا جائے گا۔ فی الحال صفحۂ ماخذ پر شائع مختصر عبارت میں یہی الزامات اور بیانات درج ہیں۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 2846