چیف جسٹس یحییٰ افریدی نے مقدمات کی سماعت میں اصلاحات اور جلد سماعتوں کی منظوری کا اعلان کیا

چیف جسٹس یحییٰ افریدی نے سپریم کورٹ وکلاء سے بات چیت میں مقدمات کے انتظام بہتر کرنے اور درخواست گزاروں کی سہولت کے لیے اصلاحات کا اعلان کیا، رجسٹرار کو جلد سماعتوں کی منظوری دے دی گئی۔

لاہور (سٹاف رپورٹر) چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ افریدی نے سپریم کورٹ کے وکلاء کے ساتھ ملاقات میں مقدمات کے انتظام اور درخواست گزاروں کی آسانی کے لیے انتظامی اصلاحات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ جلد سماعتوں کی تمام درخواستیں سماعت کے لیے فکس کر دی گئی ہیں اور رجسٹرار کو ان کی منظوری کا اختیار دیا گیا ہے۔

چیف جسٹس یحییٰ افریدی نے سپریم کورٹ کے وکلاء کے ساتھ بات چیت میں بتایا کہ جلد سماعتوں کی درخواستیں ٹھوس وجوہات کی بنیاد پر ہونی چاہئیں اور رجسٹرار کو درخواستیں منظور کرنے کا اختیار دے دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام درخواستیں سماعت کے لیے فکس کر دی گئی ہیں۔

افریدی نے عدالت کے مقدمات کے نظم و نسق میں بہتری کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک ماہ کے دوران سپریم کورٹ نے 400 ٹیکس سے متعلقہ مقدمات کا فیصلہ کیا، اور 2024 کے صرف 23 مقدمات زیر التوا رہ گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 2025 اور 2026 کے ٹیکس مقدمات اس وقت اپیکس کورٹ میں زیر سماعت ہیں۔

چیف جسٹس نے عدالت کی کیس فکسنگ پالیسی کی خلاف ورزی کی سخت ممانعت کی تاکید کی اور کہا، “سماعتیں مقررہ پالیسی کے مطابق شیڈول کی جاتی ہیں اور اگر کسی کیس کو بینچ کے سامنے باری کے بغیر لسٹ کیا جاتا ہے تو متعلقہ جج رجسٹرار کو وضاحت کے لیے بلائے گا۔”

یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب عدالتی انتظامات بہتر بنانے اور فریقین کے لیے سماعت کے عمل کو آسان بنانے کے اقدامات پر توجہ دی جا رہی ہے۔ چیف جسٹس کے بیانات عدالت میں مقدمات کی کوریج اور سماعتوں کے تسلسل کے حوالے سے واضح ہدایات فراہم کرتے ہیں۔

ماخذ کے مطابق، یہ بیانات سپریم کورٹ وکلاء کے ساتھ ہونے والی اسی گفتگو کے دوران دئیے گئے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 2814