لاہور (ویب ڈیسک) بی بی سی اردو کے مطابق تاریخی روایات میں والابھی کے زوال کی ایک مشہور داستاں یہ ہے کہ ایک امیر کنبے کی بیٹی کی ہیروں والی کنگھی سے پیدا شدہ تنازع نے بالآخر اس شہر اور میئتریا سلطنت کے تباہ ہونے کا باعث بننا شروع کیا۔
بی بی سی اردو کی تحریر کے مطابق والابھی گجرات کا قدیم سیاسی، ثقافتی اور تجارتی مرکز تھا اور میئتریا حکمرانوں کی سلطنت 470 سے 788 عیسوی تک یعنی تقریباً تین صدیوں تک قائم رہی۔ مؤرخین اور سیاحوں نے اس شہر کی خوشحالی، علمی و تجارتی سرگرمیوں اور امیر گھرانوں کی شہرت کا ذکر کیا ہے۔
اخبارِ تاریخ میں ایک روایت نقل کی گئی ہے جس کے مطابق والابھی میں کاکو نامی ایک بہت دولت مند شخص رہتا تھا اور اس کی بیٹی کے پاس ہیروں سے جڑی ہوئی سونے کی کنگھی تھی۔ جب بادشاہ کی بیٹی نے اس کنگھی کی خواہش ظاہر کی اور کاکو کی بیٹی نے انکار کیا تو بادشاہ نے اس معاملے کو سنبھالنے کی کوشش کی، مگر روایت کے مطابق معاملہ تشدد اور بدانتظامی میں بدل گیا۔
بی بی سی اردو کی رپورٹ میں لکھا ہے کہ روایات بتاتی ہیں کہ کاکو نے بدلہ لینے کے لیے ایک غیر ملکی فوجی سردار کو مالی فائدہ دے کر والابھی پر حملے کے لیے آمادہ کیا۔ بعد ازاں اسی حملے میں شہر لوٹا گیا اور تباہی واقع ہوئی، جس کے نتیجے میں سلطنت کمزور پڑ گئی۔
مصنفین اور مؤرخین والابھی کی تباہی کے بارے میں مختلف تاریخی حوالہ جات پیش کرتے ہیں اور بعض اسے افسانوی یا نیم تاریخی قرار دیتے ہیں۔ بی بی سی اردو مضمون میں اس روایت کا حوالہ دیتے ہوئے اس کی ممکنہ تاریخی بنیاد اور ذرائع کا جائزہ بھی دیا گیا ہے، مگر مضمون واضح کرتا ہے کہ یہ قصہ تاریخی شواہد کے ساتھ مل کر مختلف تشریحات میں پیش ہوا ہے۔
والابھی کی یہ داستان تاریخی روایات اور مقامی قصص میں مستند حوالوں کے ساتھ مل کر چلی آتی ہے، مگر بی بی سی اردو مضمون قارئین کو بتاتا ہے کہ بعض حصے افسانوی نوعیت کے بھی محسوس ہوتے ہیں اور مکمل تاریخی ثبوت کے بغیر انہیں محض ایک ممکنہ وجہ سمجھنا مناسب ہے۔




