لاہور (سٹاف رپورٹر) وزارت اطلاعات و نشریات نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کو گزشتہ 13 برس میں بدترین گورننس کا سامنا رہا اور انسدادِ دہشت گردی کے لیے این ایف سی کے تحت ملنے والے 700 ارب روپے کے باوجود سی ٹی ڈی، فرانزک لیب اور پولیس کی بہتری جیسے اہم اقدامات نہیں کیے گئے۔
وزارت اطلاعات و نشریات نے صوبے کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں حکمرانی بہتر کرنے کے بجائے صوبائی حکومت کی توجہ احتجاجی سیاست پر رہی۔ وزارت کے مطابق انسدادِ دہشت گردی کے لیے وفاقی سطح پر این ایف سی کے تحت ملنے والے 700 ارب روپے کے باوجود سی ٹی ڈی، فرانزک لیب اور پولیس کی استعداد کار میں ضروری بہتری نہیں لائی گئی۔
سرکاری بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بدترین گورننس کے باعث صوبے کو گزشتہ 13 برس میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جبکہ دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیشِ نظر متعلقہ اداروں کی مضبوطی ناگزیر تھی۔ بیان کے مزید حصے صاف طور پر فراہم نہیں کیے گئے۔
یہ تمام بیانات وزارت اطلاعات و نشریات کی جاری کردہ تحریری خبروں/بیان پر مبنی ہیں اور دعوے وزارت کی طرف سے عائد کیے گئے ہیں۔




