اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) حکومتِ پاکستان نے کہا ہے کہ افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف دہشت گردی کیلئے استعمال ناقابلِ قبول ہے اور افغان طالبان حکومت کو واضح طور پر کہا گیا ہے کہ دہشت گردوں کو روکا جائے، جب کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں حملوں میں شہری متاثر ہوئے اور ہماری مسلح افواج نے جانوں کے نذرانے پیش کیے۔
حکومتِ پاکستان کی جاری کردہ بیان کے مطابق خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات سے شہری متاثر ہوئے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ہماری بہادر جوانوں نے دہشت گردی کا مقابلہ کرتے ہوئے جانوں کے نذرانے پیش کیے۔
بیان میں افغان سرزمین کے بطور دہشت گردی کے ٹھکانے استعمال ہونے کو ناقابلِ قبول قرار دیا گیا اور افغان طالبان حکومت پر واضح کیا گیا کہ وہ دہشت گردوں کو روکنے کی ذمہ داری نبھائے۔ حکومت نے اس معاملے پر افغان حکام کو خبردار کرنے کا ذکر کیا ہے۔
حکومتی پیغام میں متاثرہ علاقوں میں ہونے والے واقعات کی مذمت کی گئی اور اس بات پر زور دیا گیا کہ سرحد پار سے مبینہ دہشت گردانہ کارروائیاں علاقائی امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ جاری بیان میں مزید تفصیلات یا متاثرین کی تعداد فراہم نہیں کی گئی۔
یہ بیان حکومتِ پاکستان کی طرف سے سامنے آیا ہے اور اس میں بین الاقوامی سرحد کے پار مبینہ استعمال کے خلاف تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ مزید کارروائی یا رابطوں کے حوالے سے بیان میں کوئی اضافی انتظامی اقدام یا اگلا قدم واضح نہیں کیا گیا۔




