مولانا فضل الرحمان کا دعویٰ: ثالثی کے باوجود خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا فیصلہ کابینہ نے کر لیا

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ثالثی کے باوجود کابینہ نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کی رائے دی، حالانکہ ابتدائی مذاکرات کے دوران دونوں جانب مؤقف نرم دکھائی دیا تھا۔

لاہور (سٹاف رپورٹر) مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اُن کی ثالثی کے باوجود وفاقی کابینہ نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے اور ایمرجنسی لگانے کی رائے دے دی، حالانکہ ابتدائی مذاکرات کے بعد وہ مفاہمت کے حامی تھے۔

مولانا فضل الرحمان نے بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ وہ ابتدائی طور پر اس امیدوار تھے کہ وفاقی حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان ثالثی سے معاملہ حل ہو جائے گا۔ اُن کا کہنا تھا کہ اُن کی وزیر اعظم شہباز شریف اور تحریک انصاف کی قیادت سے ملاقاتوں کے بعد پی ٹی آئی نے لانگ مارچ اسلام آباد بھی وقتی طور پر مؤخر رکھا اور وفاقی حکومت نے ایمرجنسی کے فیصلے کو بھی وقتی طور پر روکا تھا، جس کی وجہ سے وہ سمجھتے تھے کہ “دونوں کسی مفاہمت کے لیے سنجیدہ ہیں۔”

فضل الرحمان نے بتایا کہ سات اکتوبر کو سعودی عرب سے واپسی کے بعد اُنہوں نے پی ٹی آئی اور وفاقی نمائندوں سے بات چیت کی اور نو اکتوبر کو وزیر اعظم سے کھانے پر بھی ملاقات ہوئی۔ ان ملاقاتوں کے دوران اُنھوں نے کہا کہ طے پایا کہ پی ٹی آئی کی صوبائی قیادت کو شامل کرنے کے بعد باہمی اعلان کیا جائے گا اور عمران خان کے علاج معالجے سے متعلق مطالبات بھی زیرِ غور آئیں گے۔

تاہم فضل الرحمان نے کہا کہ اسی رات بعد ازاں اسحاق ڈار کا فون آیا اور انہیں بتایا گیا کہ کابینہ کی رائے گورنر راج نافذ کرنے اور ایمرجنسی لگانے کی ہے۔ یہ پیغام مولانا کے بقول ان مذاکراتی توقعات کے برخلاف آیا اور اسی فاصلہ پر مذاکرات کا سلسلہ ٹوٹ گیا۔

رپورٹ کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے اپنی پریس کانفرنس میں یہ تفصیلات بیان کیں، جبکہ بی بی سی اردو نے بتایا ہے کہ اس عمل میں شامل حکومتی وزرا اور حکام اس معاملے پر مختلف کہانیاں بیان کرتے ہیں۔ دستیاب شواہد میں بتایا گیا ہے کہ ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ سے پہلے کے 48 گھنٹوں کے دوران ملاقاتیں، رابطے اور فیصلے تبدیل ہوتے رہے۔

بی بی سی اردو کی رپورٹ میں وفاقی حکومت کی براہِ راست کمنٹی یا اس فیصلے کی رسمی تصدیق کا حوالہ اس متن میں شامل نہیں ہے؛ مولانا فضل الرحمان کے بیانات مصدرِ معلومات کے طور پر بیان کیے گئے ہیں۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 2808