جی ایچ کیو پر 2009 کے حملے کی تفصیلات سامنے، ‘ڈاکٹر عثمان’ نے یرغمالی اور قیدی رہائی کا منصوبہ قبول کیا

بی بی سی اردو کی دستاویزاتی رپورٹ میں عقیل احمد المعروف 'ڈاکٹر عثمان' کے اعترافی بیانات سے 10 اکتوبر 2009 کے جی ایچ کیو حملے کی منصوبہ بندی اور قیدی رہائی کے مقصد کی تفصیل سامنے آئی۔

راولپنڈی (سٹاف رپورٹر) بی بی سی اردو کی رپورٹ کے مطابق 10 اکتوبر 2009 کو جی ایچ کیو پر ہونے والے حملے کے مبینہ ملزم عقیل احمد المعروف ‘ڈاکٹر عثمان’ کے اعترافی بیانات سے حملے کی منصوبہ بندی اور شدت پسندوں کا مقصد سامنے آیا ہے۔

بی بی سی اردو کی صفحہ پر شائع مواد کے مطابق 10 اکتوبر 2009 کو راولپنڈی میں فوج کے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) کے پہلے حفاظتی حصار پر ایک سفید سوزوکی وین پہنچی جس میں فوجی وردیوں میں ملبوس افراد سوار تھے۔ سکیورٹی اہلکاروں نے شناخت مانگی تو گاڑی میں موجود افراد نے فائرنگ شروع کر دی۔ ابتدائی مقابلے میں پانچ حملہ آور ہلاک ہوئے جبکہ پانچ اندر داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے اور عمارت کے اندر شدید فائرنگ اور یرغمالی صورتحال پیدا ہو گئی۔

فوجی ذرائع اور بعدازاں شائع ہونے والے عدالتی اور تحقیقاتی ریکارڈ کے مطابق عقیل احمد وہ واحد حملہ آور تھا جو بعد ازاں زندہ گرفتار ہوا۔ اس کے مبینہ اعترافی بیان میں بتایا گیا کہ حملہ آوروں کا ہدف اعلیٰ فوجی افسران کو یرغمال بنا کر قیدی شدت پسندوں کی رہائی کا مطالبہ کرنا تھا اور اُن کے پاس رہا کروانے کے لیے 115 افراد کی فہرست تھی۔

رپورٹس میں عقیل کا موقف درج ہے کہ اس منصوبے کی ابتدائی تربیت اور مشورے شمالی و جنوبی وزیرستان میں ہوئے، اور وہ خود اس سلسلے میں شمالی وزیرستان پہنچ چکا تھا جہاں اُس نے مختلف عسکری رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں۔ عقیل نے اعتراف کیا کہ حملے کی تیاری میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا، اور اُنھوں نے گوگل ارتھ پر جی ایچ کیو کے نقشے دیکھ کر اندرونی راستے اور عمارتوں کا جائزہ لیا۔

اس حملے کے بعد ٹی ٹی پی نے ذمہ داری قبول کی تھی اور فوجی ترجمان نے بھی ابتدائی طور پر بتایا تھا کہ حملہ آوروں کے پاس ایک طویل قیدی فہرست تھی۔ بی بی سی اردو کا تجزیہ عدالتی اور فوجی تحقیقات کی کاغذی دستاویزات اور مقامی اخبارات میں شائع اعترافات کی بنیاد پر تفصیلات فراہم کرتا ہے۔

رپورٹ میں شائع دستاویزات اور عقیل کے مبینہ بیانات وہ حقائق ہیں جن سے اس بڑے حملے کے ارادوں اور تیاری کے پہلوؤں کی تصویر واضح ہوتی ہے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 2794