لاہور (سٹاف رپورٹر) عمر سیف نے لکھا ہے کہ تحریک انصاف ایک پڑھے لکھے نوجوان طبقے کی نمائندہ ہو سکتی تھی، مگر اس کی قیادت، نمائندگی اور بیانیہ ایسے لوگوں کے کنٹرول میں آ گئے ہیں جو سوشل میڈیا پر ‘لغو اور رکیک’ تبصرے کر کے چند ڈالر کماتے ہیں۔
عمر سیف نے اپنی تحریر میں کہا ہے کہ تحریک انصاف میں وہ صلاحیت موجود تھی کہ وہ ایک تعلیم یافتہ نوجوان طبقے کی نمائندگی کرے اور پرانے فرسودہ نظام کو بدل کر نیا پاکستان بنانے کی امید فراہم کرے۔
لیکن، سیف نے نشاندہی کی کہ پارٹی کی لیڈر شپ، نمائندگی اور بیانیہ اب ان لوگوں کے ہاتھ چلے گئے ہیں جو سوشل میڈیا پر توجہ کھینچنے اور چند ڈالر کمانے کے لیے لغو اور رکیک تبصرے کرتے ہیں۔
مصنف نے اس صورتحال کو تحریک انصاف کا المیہ قرار دیا ہے، اور کہا ہے کہ اس قسم کی نمائندگی اس نوجوان قوت کی اصل توقعات اور سیاسی ایجنڈے سے میل نہیں کھاتی۔
تحریر میں مزید تفصیل یا مثالیں فراہم نہیں کی گئیں، اور مضمون کا مرکزی نکتہ یہی ہے کہ پارٹی کے اندر بیانیہ کن عناصر کے زیرِ اثر آیا ہے اور اس کا ممکنہ نقصان کیا ہو سکتا ہے۔




