پشاور (سٹاف رپورٹر) بی بی سی اُردو کی ویرِفیکیشن میں بتایا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل وہ تصویر جس میں وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی بظاہر حراست میں دکھائی دے رہے ہیں، اوپن اے آئی کے ٹولز کے مطابق مصنوعی ذہانت سے تیار شدہ نکلی۔
بی بی سی اُردو کی تفتیش میں سامنے آیا ہے کہ سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر گردش کرنے والی تصویر کو مختلف آن لائن ٹولز سے جانچا گیا۔ اوپن اے آئی کے ایمیج ویریفیکیشن ٹول نے تصویر میں سنتھ آئی ڈی واٹر مارک کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ تصویر اوپن اے آئی (مصنوعی ذہانت) کے ذریعے بنائی گئی ہے۔ دیگر ڈیٹیکٹرز نے بھی اس تصویر کے اے آئی سے بنائے جانے کی نشاندہی کی۔
پشاور میں اسی دوران خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے دوسرے روز ریڈ زون اور اس کے اطراف کے کچھ علاقے پیر کے روز بھی سیل رہے اور شہر کے متعدد حصوں میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز بند رہی۔ تحریک انصاف نے ہشتنگری چوک میں احتجاج کا اعلان کیا تھا جس کے پیشِ نظر پولیس کی بھاری نفری صبح سے تعینات رہی۔
پی ٹی آئی کے بعض کارکن ہشتنگری چوک تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے اور وہاں پولیس کے ساتھ چھرہ بازی اور آنکھ مچولی کے مناظر دیکھنے میں آئے، تاہم کوئی بڑا مظاہرہ سامنے نہیں آ سکا اور بعض کارکنوں کو حراست میں بھی لیا گیا۔ صوبائی سیکریٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ ٹکراؤ نہیں چاہتے اور نہ ہی اپنے کارکنوں کو خطرے میں ڈالیں گے، ان کے بقول جماعت عدالتوں سے رجوع کرے گی اور لانگ مارچ جاری رہے گا۔
بی بی سی کے مطابق ایمرجنسی کے نفاذ کے لگ بھگ 30 گھنٹے بعد وفاقی حکومت نے تصدیق کی کہ صوبائی وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کو نقضِ امن کے خدشے کے پیشِ نظر حراست میں لیا گیا ہے، تاہم حراست میں لیے گئے رہنماؤں کے بارے میں مزید تفصیلات اس وقت دستیاب نہیں ہیں۔
خبر میں شامل شواہد یہ ظاہر کرتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر سہیل آفریدی کی رہائی کے مطالبے کے ساتھ شئیر کی جانے والی تصویر حقیقت پر مبنی نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت سے تیار شدہ مواد ہے، جب کہ پشاور میں امن و امان کی صورتِ حال اور احتجاجی انتظامات جاری ہیں۔




