لاہور (ویب ڈیسک) مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے پارلیمان سے اپیل کی ہے کہ اگر سعودی عرب درخواست کرے تو اس کے دفاع کے لیے ‘ضروری اقدامات’ کیے جا سکیں، قومی دفاعی کونسل نے حوثیوں کے حملوں کے مقابلے میں سعودی عرب کو ہر قسم کی حمایت فراہم کرنے کی منظوری دے دی۔
مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے پارلیمان سے یہ اختیار مانگنے کی اپیل کی ہے کہ اگر سعودی عرب درخواست کرے تو قاہرہ اس کے دفاع کے لیے ‘ضروری اقدامات’ اٹھا سکے۔ السیسی نے کہا تھا کہ اگر سعودی عرب کی سلامتی کو نقصان پہنچا تو مصر صرف تماشائی کا کردار ادا نہیں کرے گا اور ممکنہ فوجی مداخلت دفاعی نوعیت کی ہوگی، نہ کہ جارحانہ اقدام۔
بی بی سی اردو کے مطابق اتوار کو مصر کی قومی دفاعی کونسل نے حوثیوں کے حملوں کے خلاف سعودی عرب کو ہر قسم کی حمایت فراہم کرنے کی منظوری دی۔ مصر نے اسی دوران مطلوبہ آئینی اور قانونی اقدامات مکمل کرنا شروع کر دیے ہیں تاکہ پارلیمان کو پیش کیے جانے والے اختیارات کا اطلاق ممکن ہو سکے۔
مصری ایوانِ نمائندگان نے معاملے پر ہنگامی اجلاس بھی بلایا اور حتمی فیصلہ پیر تک مؤخر کر دیا، جس کے بعد پارلیمنٹ میں اس کی منظوری کو حتمی شکل دی جائے گی۔
ماہرین کے حوالہ سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مصر کی یہ سرگرمیاں ایسے وقت میں سامنے آئیں جب حالیہ ہفتوں میں سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے، جن میں ریاض کے ہوائی اڈے اور توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانا بھی شامل تھا، اور بحیرہ احمر میں جہاز رانی کے تحفظ کے بارے میں خدشات بڑھ گئے ہیں۔
متعدد تجزیہ کار اس بات پر متفق ہیں کہ قاہرہ ممکنہ طور پر براہِ راست بڑی سطح کی زمینی فوجی مداخلت کی طرف فوراً نہیں بڑھے گا، بلکہ اس کی شمولیت کی نوعیت انٹیلی جنس کا تبادلہ، لاجسٹک مدد، فضائی دفاع یا بحری طور پر راستوں کے تحفظ تک محدود رہ سکتی ہے۔ البتہ حکام کا موقف واضح طور پر یہ ہے کہ مصر خلیجی شراکت داروں کے دفاعی معاملات میں مکمل تماشا تماشائی نہیں رہے گا اور خطے کے اہم مفادات کے تحفظ کے لیے اقدامات کرے گا۔
رپورٹ میں مصری ترجمان یا پارلیمانی رائے کا مزید حوالہ موجود نہیں؛ حتمی قانونی اختیار ملنے اور پارلیمانی منظوری کے بعد ہی قاہرہ کی ممکنہ کارروائیوں کی نوعیت اور وسعت واضح ہو سکے گی۔




