لاہور (سٹاف رپورٹر) موبائل فون نیٹ ورک اچانک بند ہونے کے بعد ڈوپلیکیٹ سم اور بائیومیٹرک فراڈ کے ذریعے بینک اکاؤنٹس سے لاکھوں روپے غائب ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جب کہ ایک بینک ملازم نے اپنا ڈیٹا شیئر کرنے کا اعتراف کیا ہے۔
موبائل فون نیٹ ورک اچانک بند ہونے کے بعد متعدد شہریوں کے بینک اکاؤنٹس سے لاکھوں روپے غائب ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ خبر کے مطابق ڈوپلیکیٹ سم اور بائیومیٹرک فراڈ کے ذریعے کارروائیاں کی گئیں اور اس مہم میں دو اراکین قومی اسمبلی سمیت متعدد افراد کو نشانہ بنایا گیا۔
ایک بینک ملازم نے بتایا ہے کہ اس نے کس طرح اپنا ڈیٹا شیئر کیا، اور اسی اعتراف کو رپورٹ میں نمایاں کیا گیا ہے۔ ابھی تک متاثرہ رقم کا حتمی تخمینہ یا متاثرین کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
رپورٹ نے شہریوں کے لئے سوال اٹھایا ہے کہ ان کے پیسے کتنے محفوظ ہیں اور بینکنگ سیکیورٹی کے نظام میں موجود ممکنہ خامیوں کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ اب تک کسی حکومتی یا بینک عہدیدار کی طرف سے باقاعدہ ردِ عمل یا تحقیقات کا اعلامیہ شامل نہیں کیا گیا۔
مزید تفصیلات کے مطابق، اصل حملے میں ڈوپلیکیٹ سم اور بائیومیٹرک معلومات کے ذریعے اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کی گئی، مگر رپورٹ میں تفتیش کی موجودہ حیثیت اور متاثرین کی تعداد کے بارے میں اضافی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔




