لاہور (ویب ڈیسک) فرانس سے شروع ہونے والا احتجاج بیلجیم، اٹلی، اسپین اور پرتگال تک پھیل گیا جبکہ پولیس سے جھڑپوں اور جلنے والی تاریخی عمارتوں کی اطلاعات موصول ہوئی۔
فرانس سے شروع ہونے والے احتجاجات اب یورپ کے متعدد ملکوں تک پھیل چکے ہیں، جہاں روایتی مظاہروں کے ساتھ توڑ پھوڑ اور پولیس سے جھڑپوں کی خبریں بھی سامنے آئیں۔ شاہزیب خانزادہ کے مطابق پیرس میں ایک مشہور میوزیم بند کر دیا گیا جب کہ بعض شہروں میں تاریخی عمارتوں کی آگ لگنے کی اطلاعات ملی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق احتجاج اٹلی، اسپین اور پرتگال تک منتقل ہو گئے ہیں اور ہر جگہ مظاہروں کے دوران نظامِ صفائی، پراپرٹی نقصان اور سیکیورٹی معاملات پر کشیدگی دیکھی گئی۔ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ بیلجیم میں بھی بڑے پیمانے پر پُرجوش مظاہرے ہوئے جن میں بعض مقامات پر توڑ پھوڑ ہوئی۔
خاص طور پر البانیا کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ وہاں سپریم کورٹ کے دفاتر سمیت کئی املاک کو آگ لگا دی گئی، جس سے وہاں صورتِ حال تشویشناک نظر آتی ہے۔
اب تک دستیاب معلومات تشدد اور جانی نقصان کے مکمل اعداد و شمار فراہم نہیں کرتیں، اور مختلف شہروں سے ملنے والی تفصیلات میں فرق بھی موجود ہے۔ شاہزیب خانزادہ کی رپورٹ کے مطابق واقعات کی نوعیت مقامی سطح پر مختلف ہے، کچھ جگہوں پر مظاہرے پر امن رہے جبکہ کچھ جگہوں پر انہیں قابو میں رکھنے کے لیے سیکیورٹی فورسز نے مداخلت کی۔
یہ واضح نہیں کہ احتجاجات کے پیچھے کون سے یکساں محرکات یا اراکین موجود ہیں، اور نہ ہی اب تک کسی ایک مرکزی تنظیم نے پورے خطے میں احتجاج کے فروغ کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ مزید تازہ ترین معلومات اور مقامی ذرائع کی مزید رپورٹس موصول ہوتے ہی تفصیلات میں اضافہ متوقع ہے۔



