غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے، امریکہ اُس میں برابر کا شریک ہے، سینیٹر برنی سینڈرز
امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے کہا ہے کہ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے، امریکا اس میں برابر کا شریک ہے اور کانگریس کو اسرائیل کو دی جانے والی اربوں ڈالر کی فوجی امداد فوری طور پر روک دینی چاہیے۔

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے کہا ہے کہ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے اُس کا ذمہ دار امریکہ ہے اور وہ برابر کا شریک ہے جس کی وجہ سے اُنہوں نے کانگریس سے مطالبہ کیا کہ اسرائیل کو دی جانے والی اربوں ڈالر کی فوجی امداد فوری طور پر بند کی جائے۔
امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے یہ نشاندہی بھی کی کہ اسرائیل پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کے الزامات ہونے کے باوجود امریکہ نے اُس کی مدد کی، جنگ بندی کے باوجود اسرائیل نے غزہ میں فوجی کارروائیاں جاری رکھیں اور پیش قدمی نہیں روکی۔
برنی سینڈرز نے کہا کہ اسرائیل غزہ کے تقریباً 70 فیصد علاقے پر کنٹرول حاصل کر چکا ہے جبکہ امریکی عوام اسرائیل کو فوجی امداد بند کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
سینیٹر نے مزید کہا کہ جنگ بندی کے نو ماہ بعد بھی فلسطینی عوام کی مشکلات ختم نہیں ہوئیں، غزہ کے 92 فیصد رہائشی مکانات تباہ یا شدید متاثر ہو چکے ہیں اور غزہ کی 70 فیصد آبادی رہائش کی مناسب سہولت سے محروم ہے۔
تعلیم اور غذائی حفاظتی اعداد و شمار پر بات کرتے ہوئے سینڈرز نے کہا کہ غزہ کے 91 فیصد بچوں کو باقاعدہ تعلیم تک رسائی حاصل نہیں ہے جبکہ 70 فیصد کم عمر بچے غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔
سینیٹر نے انتباہ کیا کہ جنگ بندی کے باوجود اسرائیل نے غزہ میں متعدد نئی فوجی چوکیاں قائم کی ہیں کیونکہ اسرائیلی حکومت غزہ پر مستقل قبضے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔



