میر رضا کیس: جوڈیشل کمیشن نے تفتیشی غفلت نوٹ کر کے جے آئی ٹی یا عدالتی نگرانی کی سفارش کر دی

جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ میں میر رضا کی موت کی تفتیش میں پیشہ ورانہ غفلت، شواہد کے نقصان اور میڈیکل بورڈ میں ممکنہ مداخلت کی نشاندہی کی گئی اور جے آئی ٹی یا عدالتی نگرانی کی سفارش کی گئی ہے۔

کراچی (سٹاف رپورٹر) سندھ میں میر رضا کی موت کی جوڈیشل کمیشن رپورٹ میں تفتیشی غفلت، شواہد کے نقصان اور میڈیکل بورڈ کے ممکنہ مداخلت کے الزامات اٹھائے گئے اور جے آئی ٹی یا آزاد عدالتی نگرانی میں تحقیقات کی سفارش کی گئی ہے۔

سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں قائم جوڈیشل کمیشن نے میر رضا کی موت کے معاملے میں تحقیقاتی نقائص اور شواہد کی عدم دستیابی کی نشاندہی کی ہے۔ رپورٹ، جو صوبائی حکومت نے منگل کو جاری کی، میں کہا گیا ہے کہ تفتیش میں پیشہ ورانہ غفلت کے پہلو سامنے آئے ہیں اور ضروری ہے کہ کیس مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) یا آزاد عدالتی نگرانی کے ذریعے دوبارہ کھولا جائے۔

کمیشن نے شواہد کی حفاظت اور فرانزک نشانات کی عدم دستیابی پر تشویش ظاہر کی۔ رپورٹ کے مطابق لاش کی حالت اور جائے واقعہ کے معائنے کے طریقۂ کار سے متعلق سوالات اٹھتے ہیں اور ابتدائی طور پر لاش کو منتقل کرنے سے بعض اہم جسمانی شواہد ضائع ہونے کا خدشہ پیدا ہوا۔ اس کے علاوہ کمیشن نے کہا کہ ممکنہ طور پر مقامِ وقوعہ پر آگ لگی جس سے ڈی این اے، فنگر پرنٹس، خون کے نشانات اور جوتوں کے نقوش جیسے شواہد کو نقصان پہنچنے کا خطرہ تھا۔

جوڈیشل کمیشن نے میڈیکل بورڈ کے عمل کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر عثمان کے عمل کو غیر پیشہ وارانہ اور بچگانہ قرار دیتے ہوئے سفارش کی کہ انہیں کم از کم دو سال تک میڈیکل لیگل ذمہ داریوں سے روک دیا جائے اور سخت تعلیمی و عملی تربیت دی جائے۔ رپورٹ میں یہ امکان بھی اٹھایا گیا کہ میڈیکل بورڈ کے معاملے میں اثر و رسوخ یا مداخلت کا امکان موجود ہے اور اس کا حتمی تعین کرنا ضروری ہے۔

رپورٹ میں تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈی آئی جی عامر فاروقی اور ڈی آئی جی ایسٹ فرخ لنجار کے کردار پر بھی تبصرہ کیا گیا؛ کمیشن نے بعض پہلوؤں میں پیشہ ورانہ غفلت اور موثر نگرانی کے فقدان کی نشاندہی کی۔ ساتھ ہی سپیشل سیکریٹری ہیلتھ شہریار میمن کے خلاف محکمانہ کارروائی کی سفارش کی گئی اور کہا گیا کہ اُن کی جانب سے میڈیکل بورڈ کی اچانک تبدیلی پر شک کیا جانا چاہیے۔

دستاویز میں مالی ریکارڈ اور ڈیجیٹل پیغام رسانی کی آزادانہ تفتیش کی بھی سفارش شامل ہے، خصوصاً ایک مبینہ واٹس ایپ پیغام کا جو رپورٹ میں میر رضا کے نام منسوب کیا گیا ہے اور جس میں تین کروڑ روپے کا ذکر ہے؛ کمیشن نے اس پیغام کی صداقت اور پسِ منظر کا جائزہ لینے کو ضروری قرار دیا ہے۔

کمیشن کی سفارشات میں عدالت یا متعلقہ اداروں کو معاملے کی شفاف اور آزادانہ تحقیقات کرانے پر زور دیا گیا ہے تاکہ میر رضا کی موت کے اسباب کا واضح تعین اور ممکنہ ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی ممکن ہو سکے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 2750