ملتان (سٹاف رپورٹر) ملتان کے وکلاء نے 15 سالہ یتیم وسیم کو کچل کر ہلاک کرنے کے الزام میں گرفتار ملزم توقیر نذیر کو مارا پیٹا اور بعد ازاں اِس کی وکالت کرنے سے انکار کر دیا۔
ملتان میں مقامی وکلاء برادری نے ملزم توقیر نذیر کی پٹائی کے بعد اعلان کیا کہ کوئی بھی وکیل اِس کا مقدمہ نہیں لڑے گا جبکہ ایک وکیل نے مقتول کے خاندان کے حق میں مقدمہ مفت لڑنے کی پیشکش بھی کر دی۔
رپورٹ کے مطابق واقعے کے وقت ملزم کے ساتھ کار میں ایک اور شخص موجود تھا جبکہ دو افراد موٹرسائیکل پر قریب کھڑے تھے۔ وکلاء نے بتایا کہ اِن میں سے بعض افراد کی شناخت ابھی تک نہیں ہوئی اور پولیس انہیں تلاش کر رہی ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ واقعے کے وقت ملزم کے ساتھ اور بھی لوگ موجود تھے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خاندان واقعے کے بعد شدید ذہنی اور معاشی بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ وکلاء کی یکجہتی اور مفت قانونی معاونت کے اعلان سے مقامی سطح پر خاندان کو قانونی معاونت ملنے کی اُمید اب بڑھ گئی ہے۔
وکلاء برادری نے واضح کر دیا ہے کہ ملتان کے کسی بھی وکیل کی طرف سے اس مبینہ قاتل کی نمائندگی نہیں کی جائے گی جبکہ پولیس واقعے کے دیگر ممکنہ شریک فریقین کی شناخت کر کے تفتیش جاری رکھے ہوئے ہے۔
یاد رہے کہ دو روز قبل ملتان میں 15 سال کے یتیم بچے کو جبری مشقت سے انکار پر با اثر ملزمان نے گاڑی کے نیچے کچل کر قتل کر دیا تھا۔ ملتان کی نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں 15 سالہ یتیم لڑکے کو کار تلے کچل کر قتل کرنے کی مختلف سی سی ٹی وی فوٹیجز میں لڑکے کا تعاقب کرنے اور اس پر گاڑی چڑھانے کے مناظر سامنے آئے تھے۔
ملزمان نے ابتدائی طور پر اگرچہ قتل کو حادثہ ثابت کرنے کی کوشش کی تاہم مختلف زاویوں سے سامنے آنے والی ایک سے زیادہ سی سی ٹی وی کیمروں کی ویڈیوز نے ثابت کیا کہ یہ حادثہ نہیں بلکہ ظالمانہ قتل تھا۔
ویڈیوز میں لڑکے کو بھاگتے اور ملزمان کو اِس کا گاڑی میں پیچھا کرتے دیکھا جا سکتا ہے، ایک اور سی سی ٹی وی کیمرے کی ویڈیو میں وہ درد ناک منظر بھی قید ہوا جس میں ملزمان نے بچے پر تیز رفتار کار چڑھا دی اور وہ موقع پر دم توڑ گیا۔
واقعے کے بعد پولیس حرکت میں آئی تھی اور توقیر نذیر نامی مرکزی ملزم کو گرفتار کر کے اِس کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا تھا کہ قتل کرنے کا مقدمہ پولیس کی مدعیت میں درج کیا گیا۔
پولیس کے مطابق قاتل کی طرف سے مقتول پر چوری کا الزام بھی لگایا گیا تھا تاہم ابتدائی تحقیقات میں مقتول پر چوری کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ سی پی او ملتان اختر فاروق کا کہنا تھا کہ مقتول ایک مقامی این جی او کے یتیم خانے میں مقیم تھا جہاں سے اُسے ہفتہ بھر قبل الیکٹریشن کا کام سیکھنے کے لیے ملزم کے پاس بھیجا گیا جو مختلف عمارتوں میں بجلی کے کام کے ٹھیکے لیتا تھا اور ماضی میں بھی یتیم خانے کے بچے اِس کے پاس تربیت حاصل کرتے رہے ہیں۔
پولیس کے مطابق لڑکے کے کام چھوڑ کر جانے پر اُس کا تعاقب کیا گیا اور گاڑی چڑھا دی گئی۔ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں جبکہ مقتول کی لاش اِس کے چچا اور ماموں مظفرگڑھ لے گئے جہاں اُنہوں نے نماز جنازہ ادا کر کے اُس کی تدفین کر دی۔
پراسکیوٹر جنرل پنجاب عرفان صادق تارڑ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کیس کو ہائی پروفائل قرار دیا اور موثر انصاف کی فراہمی کے لیے پراسکیوٹرز کی ٹیم تشکیل دے دی۔ اُنہوں نےہدایت کی کہ مقدمے میں تفتیش میرٹ کی بنیاد پر کی جائے۔




