لاہور (ویب ڈیسک) چین کی وزارتِ تجارت نے امریکی انتظامیہ کے حالیہ حکم پر شدید عدم اطمینان اور پرزور مزاحمت کا اظہار کیا، جس میں وفاقی سول ایجنسیوں کو چینی کمپنیوں کے مصنوعی ذہانت کے پراڈکٹس اور سروسز کے استعمال سے روکنے کا کہا گیا تھا۔
چین کی وزارتِ تجارت نے امریکی حکومت کی جانب سے وفاقی سول ایجنسیوں کو چینی کمپنیوں کے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے پروڈکٹس اور سروسز استعمال نہ کرنے کے حکم پر “شدید عدم اطمینان اور پرزور مخالفت” کا اظہار کیا۔
سرکاری بیان میں اس اقدام کو تازہ ترین امریکی قدم قرار دیا گیا جس میں براہِ راست امریکی اداروں کو چینی اے آئی مصنوعات سے فاصلے پر رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ بیان کا حوالہ چین کے تجارتی محکمے نے دیا، جس نے فیصلے پر اعتراض درج کرایا۔
ذرائعِ ابلاغ کے مطابق وزارتِ تجارت نے موقف دینے کے دوران کہا کہ وہ اس طرح کے اقدامات پر سخت تحفظات رکھتی ہے اور متعلقہ حکام کے فیصلوں کی نگرانی جاری رکھے گی۔
اس خبروں کا ماخذ چین کی سرکاری خبر ایجنسی کی رپورٹ ہے، جس نے وزارتِ تجارت کے ردِعمل کو رپورٹ کیا۔ رپورٹ میں امریکی حکم کی تفصیل کے طور پر وفاقی سول ایجنسیوں کو چینی کمپنیوں کے اے آئی پروڈکٹس اور سروسز کے استعمال سے روکنے کی ہدایت کا حوالہ دیا گیا ہے۔
ابھی تک دونوں جانب سے اس معاملے پر مزید تبصرے یا اس کے ممکنہ نتائج کے بارے میں تفصیلی وضاحت سامنے نہیں آئی۔




