لاہور (سٹاف رپورٹر) صوبہ سندھ کی محکمہ تعلیم نے نجی اسکولوں کو خطرناک یا بگڑی ہوئی عمارتوں میں تعلیمی سرگرمیاں فوراً بند کرنے اور پندرہ دن کے اندر جامع معائنہ کروانے کا حکم جاری کر دیا۔
صوبہ سندھ کی محکمہ تعلیم نے نجی اسکولوں کے حوالے سے ‘زیرو ٹالرنس’ پالیسی کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ خطرناک یا جزوی طور پر متاثرہ عمارتوں میں کسی بھی قسم کی تدریسی سرگرمی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ محکمہ نے ہدایت دی ہے کہ ایسے تمام اسکول فوراً طلبہ اور عملے کو محفوظ متبادل مقامات پر منتقل کریں۔
حکم نامے کے تحت محکمہ نے نجی اسکولوں کے احاطوں کا جامع سروے کرنے کے لیے پندرہ دن کی مدت مقرر کی ہے۔ معائنہ کار عمارتوں کی حالت کا نوٹس رکھیں گے اور خطرناک قرار دی گئی عمارتوں کو نشان زد کریں گے، جبکہ اسکول ایسوسی ایشنز کو بھی عمارتوں کے حفاظتی معیار فوری لاگو کرنے کہا گیا ہے۔
سرکاری حکم میں کہا گیا ہے کہ معائنے کی رپورٹ میں متاثرہ طلبہ کی تعداد اور متعلقہ عمارتوں کی حالت کا تفصیلی ذکر شامل ہوگا اور متعلقہ حکام سے پندرہ دن میں رپورٹ طلب کی گئی ہے۔
مزید برآں، محکمہ نے اعلان کیا ہے کہ بگڑی ہوئی عمارتوں میں چلنے والے نجی اسکولوں کی رجسٹریشن کا ازسر نو جائزہ لیا جائے گا اور خطرناک عمارت میں آپریٹ کرنے والے اسکولوں کے خلاف قانونی کارروائی اور ممکنہ طور پر بندش تک کے اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ غیر رجسٹرڈ تعلیمی اداروں کی بھی نشاندہی کر کے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
حکم نامہ طالب علموں اور اسکول عملے کی حفاظت کو بنیادی ترجیح قرار دیتا ہے اور اسکول مینجمنٹ کو ہدایت دیتا ہے کہ وہ فوری طور پر حفاظتی متبادل تلاش کریں اور معائنے کے دوران محکمہ کے تعاون کو یقینی بنائیں۔




