آزاد کمشیر انتخابات کے پہلے مرحلے میں ن لیگ نے میدان مار لیا، پیپلز پارٹی کا دوسرا نمبر
آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے پہلے مرحلے کے انتخابات میں غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) نے میدان مار لیا ہے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) دوسر

آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے پہلے مرحلے کے انتخابات میں غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) نے میدان مار لیا ہے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) دوسرے نمبر پر رہی۔ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے میر پور، کوٹلی اور بھمبر پر مشتمل میرپورڈویژن کے 13 حلقوں پر ووٹنگ ہوئی جس کے غیرحتمی اور غیرسرکاری نتائج کے مطابق نو حلقوں پر مسلم لیگ (ن) جبکہ چار حلقوں پر پیپلزپارٹی کے امیدوار کامیاب قرار پائے۔ پولنگ کے دوران چند ایک جگہوں پر امیدواروں اور ووٹروں کے درمیان تلخ کلامی اور ہنگامہ آرائی کی شکایات ضرور ملیں تاہم مجموعی طور پر میر پور ڈویژن کے انتخابات پُر اَمن رہے۔
آزاد کشمیر کے الیکشن کمیشن نے کوٹلی میں دو پریزائیڈنگ افسروں کو پولنگ سٹیشنوں پر جانے کے بجائے ایک نجی رہائشگاہ میں چلے جانے پر معطل کر کے گرفتار کرلیا۔ الیکشن کمیشن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ دونوں پریزائیڈنگ افسروں سے انتخابی سامان برآمد کر کے اُن کی جگہ فوری طور پر دو نئے پریزائیڈنگ افسر تعینات کر کے اُنہیں متعلقہ پولنگ سٹیشن پہنچا دیا گیا۔ کوٹلی ہی میں ایک جگہ فائرنگ میں ایک شخص ہلاک ہو گیا جس پر پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے درمیان الزامات کا سلسلہ جاری رہا۔
دونوں سیاسی جماعتیں اگرچہ ایک دوسرے پر تنقید کرتی رہیں تاہم دونوں نے بھر پور طریسے سے انتخابی مہم چلائی، مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف، اُن کی صاحبزادی وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور ن لیگ کے کئی رہنمائوں سمیت پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور اُن کی بہن خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری نے پارٹی قیادت کے ساتھ مل کر انتخابی مہم میں حصہ لیا۔ دونوں جماعتوں کی قیادت کے علاوہ آزاد اراکین نے مختلف مقامات پر جلسے کیے اور اپنا اپنا انتخابی ایجنڈا عوام کے سامنے رکھا۔



