لاہور (سٹاف رپورٹر) وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پیٹرول پمپ ملازم پر مبینہ تشدد کی وائرل ویڈیو شیئر کرتے ہوئے گرفتار ملزم کو پٹرول پمپ ملازم کی طرف سے مارے جانے والے تھپڑ کو ’زور دار طمانچہ‘ قرار دیا ۔
چند روز کے اندر لاہور سے وائرل ہونے والی دو الگ الگ تشدد کی ویڈیوز نے عوامی مقامات پر سکیورٹی، خواتین اور محنت کشوں کے تحفظ اور قانون کی عمل داری پر بحث چھیڑ دی ہے۔
اس سے قبل 20 اکتوبر کو مزنگ لنک روڈ پر سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا گیا کہ ایک موٹرسائیکل سوار نے سکوٹی پر سوار ایک لڑکی کو روک کر اس پر تشدد کیا؛ پولیس نے چند گھنٹوں میں ملزم کو گرفتار کر لیا تھا۔
حالیہ واقعے میں چوہنگ کے ایک پیٹرول پمپ پر سامنے آنے والی دوسری وائرل ویڈیو میں عملے کے ایک رکن کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ایف آئی آر تھانہ چوہنگ میں درج ہے کہ ایک شخص نے پیٹرول پمپ پر سگریٹ نوشی کرنے کی وجہ سے عملے کے خلاف بدتمیزی اور جھگڑا کیا، دورانِ تلاشی اس کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد ہوا اور پھر اسے گرفتار کیا گیا۔ پولیس کے مطابق ملزم نے گاڑی کرائے پر لی تھی، کرایہ داری کے ریکارڈ اور رسیدوں کی بنیاد پر اس کی شناخت کی گئی اور گرفتار کیا گیا۔
جمعہ 23 اکتوبر کی رات مریم نواز نے ایکس پر 31 سیکنڈ کی ویڈیو شیئر کی جس کے ابتدائی حصے میں پیٹرول پمپ کی تشدد کی وائرل سی سی ٹی وی فوٹیج اور بعد میں ایک کمرے میں زیرِ حراست ملزم کو پٹرل پمپ ملازم ک طرف تھپڑ مارتے ہوئے دکھایا گیا۔ ویڈیو میں وہاں موجود پولیس اہلکار مداخلت کرتے بھی دکھائی دیتے ہیں۔
وزیرِ اعلیٰ نے پوسٹ کے ساتھ لکھا کہ یہ اُن بگڑے ہوئے اور مغرور لوگوں کے منہ پر ’ایک زور دار طمانچہ‘ ہے جو امیر یا بااثر ہونے کے سبب قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بطور وزیرِ اعلیٰ وہ مظلوموں کے ساتھ کھڑی ہیں اور انصاف ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔
مریم نواز کے ویڈیو شیئر کرنے کے بعد سوشل میڈیا پر ملا جلا ردِعمل سامنے آیا؛ بعض صارفین ان کے اقدام کی تعریف کر رہے ہیں جبکہ دیگر نے ملزمان کے ساتھ سلوک اور قانون کی عمل داری کے معاملے پر سوالات اٹھائے ہیں۔ بی بی سی اردو کی رپورٹ کے مطابق یہ ویڈیوز اس بحث کو بھی جنم دے رہی ہیں کہ عوامی مقامات پر ایسے واقعات کی روک تھام اور انصاف کے تقاضے کس طرح پورے کیے جائیں۔




