پاکستان میں مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال نے جونیئر سافٹ ویئر ڈویلپرز اور دیگر ابتدائی سطح کے ٹیک رولز کی مانگ کم کر دی ہے جس کے باعث بڑی کمپنیوں میں ان پوسٹوں کی بھرتی تقریباً 25 فیصد کم ہو گئی ہیں جبکہ 22 تا 25 سال کے سافٹ ویئر ڈویلپرز کی ملازمت 2024ء کے بعد سے قریباً 20 فیصد کم ہوئی ہے۔ اِس سب کے باوجود گزشتہ مالی سال میں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کام برآمدی ترسیلات ریکارڈ 1.2 ارب ڈالر تک پہنچیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 20.6 فیصد اضافہ ہے۔
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان میں مصنوعی ذہانت کی بڑھتی طلب نے ابتدائی سطح کی ٹیک نوکریوں کی مانگ میں واضح کمی لا دی ہے، یہ بات پاکستان سافٹ ویئر ایسوسیایشن (پاشا) کی رپورٹ میں کہی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق بڑی ٹیک کمپنیوں میں اینٹری لیول پوزیشنز کی بھرتی میں تقریباً 25 فیصد کمی واقع ہوئی ہے، جب کہ 22 تا 25 سال کے سافٹ ویئر ڈیولپرز کی ملازمتیں 2024 سے تقریباً 20 فیصد کم ہو گئی ہیں۔ فری لانس مارکیٹ میں بھی ابتدائی درجے کے پروجیکٹس کے اشتہارات تقریباً 15 فیصد سے کم ہو کر 9 فیصد سے بھی نیچے آ گئے ہیں۔ اسی دورانیے میں بنیادی تحریر اور ترجمہ کے کام میں سال بہ سال 32 فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عام، دہرائے جانے والے کام جیسے بنیادی ویب سائٹ اور ایپ ڈویلپمنٹ، گرافک ڈیزائن، اور دستی سافٹ ویئر ٹیسٹنگ تیزی سے خودکار ہو رہے ہیں، جبکہ اے آئی انجینئرنگ، سائبرسیکیوریٹی، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، اے ٓئی انٹیگریشن اور اعلیٰ درجے کی سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ میں ماہرین کی مانگ بڑھ رہی ہے۔
کئی ٹیک کمپنیوں نے پہلے ہی اپنی بھرتی کی حکمتِ عملی بدل دی ہے۔ بعض فرموں نے کہا کہ اے آئی نے ڈیلیوری اور جونیئر کوڈنگ کے کرداروں کی ضرورت کم کر دی ہے جس سے موجودہ ملازمین ایک ساتھ زیادہ پروجیکٹس سنبھال رہے ہیں۔ دیگر کمپنیوں کا کہنا تھا کہ اب وہ بڑے پیمانے پر ابتدائی سطح کے ڈویلپرز کی بجائے تجربہ کار پیشہ ور افراد کو ترجیح دے رہی ہیں جو اے آئی ٹولز کے ساتھ کام کر سکیں۔
وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ نے کہا، “AI کو خطرہ کے بجائے ایک عبوری مرحلے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ قومی اے آئی پالیسی 2025ء کے تحت 2030ء تک 30 لاکھ اے آئی متعلقہ ملازمتیں پیدا کرنے کا ہدف ہے جس کے لیے سرمایہ کاری، تربیت اور اسکالرشپس فراہم کی جائیں گی۔
تحقیق سے یہ واضح ہے کہ جبکہ مجموعی طور پر آئی ٹی سیکٹر ترقی کر رہا ہے اور برآمدات میں اضافہ ہو رہا ہے مگر ملازمتوں کے نوعیت میں تبدیلی نے ابتدائی سطح کے امیدواروں کے لیے مواقع محدود کر دیے ہیں۔




