ایران ’’قیامت خیز‘‘ جنگ کے لیے بھی تیار ہے، عباس عراقچی

دون کے مطابق ایران کے عارقچی نے کہا ہے کہ ایران امریکی جارحیت کی صورت میں حتیٰ کہ 'قیامت وار' کے لیے بھی تیار ہے۔

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کے وزیرِ کارجہ عباس عِراقچی نے ایک امریکی نیوز چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایران ’’قیامت خیز‘‘ جنگ کے لیے بھی تیار ہے اور مزاکرات کے لیے بھی، اب یہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا فیصلہ ہے کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔

انٹرویو میں عباس عراقچی نے مزید کہا کہ سفارت کاری کے لیے دروازہ کھلا ہوا ہے تاہم اگر امریکہ کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع کرنا پڑی تو وہ اپس کے لیے بھی تیار ہیں۔

اُن کے مطابق رواں ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ایرانی وفد نے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ملاقاتوں کے دوران اور غیررسمی انٹرویوز میں سفارت کاری کے ہر پہلو کو آزمایا ہے۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایرانی تجویز پر اگرچہ جواب مل چکا ہے تاہم ٹرمپ کے بیان کے باوجود سرکاری سطح پر ایران کو ثالثوں کے ذریعے آگاہ نہیں کیا گیا جس کا وہ انتظاہر کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں ایران کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران پر بدترین حملے کیے جا سکتے ہیں، ایک سال پہلے ایرانی تجاویز مانی جا سکتی تھیں لیکن اب صورتحال بالکل مختلف ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران جنگ کے خاتمے کے لیے کیے گئے معاہدے کے تحت وہ آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے تیار تھا لیکن وہ چاہتا تھا کہ اُس کے منجمد اثاثے اور فنڈز بھی واپس کیے جائیں جبکہ تیل کی فروخت کی اجازت بھی دی جائے لیکن امریکہ نے حملہ کرنے کا مناسب سمجھا۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 2760