اروناچل پردیش میں متعدد مقامات پر بھارت-چین افواج کے ٹکراؤ کا سرکاری اعتراف، آئی ٹی بی پی

آئی ٹی بی پی کے سربراہ نے اروناچل پردیش میں متعدد مقامات پر بھارتی اور چینی افواج کے درمیان ٹکراؤ کا اعتراف کیا، تعیناتیوں اور ڈرون بجٹ میں اضافے کے اعلانات بھی کیے گئے۔

(ویب ڈیسک) انڈیا کی بارڈر فورس انڈو تبتن بارڈر پولیس کے سربراہ شتروجیت کپور نے اعتراف کیا ہے کہ اروناچل پردیش میں حالیہ دنوں میں کئی مقامات پر انڈین اور چینی افواج کے درمیان ٹکراؤ ہوا اور صورتحال اب بھی جاری ہے۔

انڈیا کی شمال مشرقی ریاست اروناچل پردیش میں سرحدی علاقوں میں حالیہ کشیدگی پر انڈو تبتن بارڈر پولیس (آئی ٹی بی پی) کے سربراہ شتروجیت کپور نے پہلی بار سرکاری طور پر اعتراف کیا کہ چند جگہوں پر دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان ٹکراؤ سامنے آیا ہے اور یہ صورتحال ابھی بھی جاری ہے۔ کپور نے یہ بات راجستھان میں فورس کی ایک سالانہ تقریب سے خطاب میں کہی۔

خبر کے مطابق کشیدگی کے پیشِ نظر اروناچل کے کئی سرحدی علاقوں میں بڑی تعداد میں انڈین فورسز تعینات کر دی گئیں۔ بی بی سی اردو رپورٹ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے جب سرکاری سطح پر ایسے ٹکراؤ کا اعتراف سامنے آیا ہے۔

کپور نے اپنی تقریر میں فورس کی ‘شوریہ کمانڈو’ ٹیموں کی کارکردگی کو سراہا اور کہا کہ جلد ہی شوریہ کمانڈوز کی ایک مکمل بٹالین تشکیل دی جائے گی۔ انہوں نے چین کا براہِ راست نام تو نہیں لیا، مگر کہا کہ پیپلز لبریشن آرمی نے اپنی صلاحیت اور جدیدیت میں اضافہ کیا ہے، جس سے روایتی انداز میں مقابلہ مشکل ہو گیا ہے۔

آئی ٹی بی پی سربراہ نے ڈرون ٹیکنالوجی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ڈرونز نے جنگ کا انداز بدل دیا ہے اور اسی لیے ‘فورس کے بجٹ کا 70 فیصد حصہ ڈرونز کے لیے مختص کیا گیا ہے’۔ انہوں نے ہر بٹالین میں ایک ڈرون پلاٹون قائم کرنے کا ارادہ بھی ظاہر کیا۔

رپورٹس میں جولائی سے اروناچل کے تاکسنگ گاؤں کے قریب اسافیلا کے علاقے میں انڈین اور چینی افواج کے ایک دوسرے کے مقابل موجود رہنے کا ذکر ہے، اور بعض مقامات پر دونوں جانب مختصر درجے کی تناؤ یا ٹکراؤ کی اطلاعات سامنے آئیں۔ اس کے باوجود مقامی انتظامیہ اور فوجی حکام نے بعض سوشل میڈیا رپورٹس کو مبالغہ آمیز قرار دیا تھا۔

سرکاری اعتراف کے بعد انڈیا کی اپوزیشن جماعت کانگریس نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی عوام کو اس معاملے کی اصل صورتحال سے آگاہ کریں اور پارلیمنٹ میں بحث کرائی جائے۔ کانگریس کے رہنماؤں نے حکومت پر حقائق چھپانے کے الزامات بھی عائد کیے ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر گشت اور معاملات کے حل کے لیے مقامی فوجی کمانڈروں کی متعدد ملاقاتوں کے بعد دونوں ممالک کے کور کمانڈروں کے درمیان مذاکرات بھی ہوئے تھے۔ بی بی سی اردو کے مطابق برکس سربراہی اجلاس اور اعلیٰ سطحی مذاکرات کے باوجود سرحدی کشیدگی برقرار رہی۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 2750