اے ٹی آئی نے امریکی حکومت کے خلاف کیس دائر کیا، خفیہ کیمرہ ویڈیو کے بعد $130 ملین کے معاہدے منسوخ ہونے کا الزام

اے ٹی آئی گورنمنٹ سولیوشنز نے دعویٰ کیا ہے کہ جیمز اوکیف کی مبینہ خفیہ کیمرہ ویڈیو کے بعد اس کی ایجنسی درجہ بندی ختم ہوئی اور نتیجتاً $130 ملین کے معاہدے منسوخ ہو گئے، اس بنیاد پر امریکی حکومت کے خلاف مقدمہ دائر کیا گیا۔

(ویب ڈیسک) اے ٹی آئی گورنمنٹ سولیوشنز نے امریکی حکومت کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ جیمز اوکیف کی مبینہ خفیہ کیمرہ سازش کے بعد کمپنی اپنی ایک اہم ایجنسی درجہ بندی کھو بیٹھی، جس کے نتیجے میں $130 ملین کے معاہدے منسوخ ہو گئے۔

اے ٹی آئی گورنمنٹ سولیوشنز نے واشنگٹن میں امریکی حکومت کے خلاف قانونی چارہ جوئی شروع کی ہے، اور اپنے دعوے میں کہا ہے کہ ایک خفیہ کیمرے کی ویڈیو — جسے کمپنی نے منیپولیٹڈ قرار دیا ہے — کی وجہ سے اسے اہم ایجنسی درجہ بندی کھونا پڑی۔

کمپنی کا مؤقف ہے کہ اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد سرکاری شعبے کے ساتھ اس کے بڑے پیمانے پر معاہدے منسوخ کیے گئے، اور اس عمل نے تقریباً $130 ملین کے کام ختم کرا دیے۔

واشنگٹن پوسٹ کی دستاویز کے مطابق یہ مقدمہ اسی الزام پر مبنی ہے کہ ویڈیو نے ادارہ جاتی فیصلہ سازوں کو متاثر کیا اور کمپنی کی ساکھ اور معاہداتی حیثیت کو بری طرح نقصان پہنچایا۔

مذکورہ رپورٹ میں دعوے اور مقدمے کی تفصیلات کا خلاصہ کیا گیا ہے لیکن ذرائع یا حکومت کے جواب کا حوالہ دستیاب مواد میں شامل نہیں تھا۔

اے ٹی آئی کی جانب سے ویڈیو کو ’’ترمیم شدہ‘‘ اور ’’منصوبہ بند‘‘ قرار دینے کا دعویٰ اور $130 ملین کی مالی حد تک معاہدوں کے خاتمے کا اشارہ اس مقدمے کا مرکزی نکتہ ہے۔

واضح رہے کہ دستیاب صفحۂ ماخذ میں حکومتی عہدیداروں یا جیمز اوکیف کے ردِ عمل کا حوالہ موجود نہیں تھا، اس لیے ان دعووں پر حکومتی موقف یا ویڈیو کے حقائق کا آزادانہ تصدیق اس خبر کے دائرۂ کار سے باہر ہے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 2755