دوحہ میں ‘بدر’ ایم او یو: پاکستان، ترکی، قطر اور انڈونیشیا نے دفاعی صنعت میں شراکت داری شروع کر دی

دوحہ میں پاکستان، ترکی، قطر اور انڈونیشیا نے دفاعی صنعت، تحقیق و ترقی اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے لیے 'بدر' نامی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے جسے باہمی صنعتی شراکت داری قرار دیا گیا ہے۔

دوحہ (ویب ڈیسک) بُدھ کو پاکستان، ترکی، قطر اور انڈونیشیا نے دفاعی صنعت، ٹیکنالوجی منتقلی، تحقیق و ترقی اور تکنیکی تربیت کے لیے ‘بدر’ نامی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے، جس پر پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے بھی دستخط کیے۔

چاروں ممالک نے دوحہ میں ایک کثیرالجہتی مفاہمتی یادداشت ‘بدر’ پر دستخط کر کے دفاعی صنعت میں باہمی تعاون کا نیا فریم ورک شروع کیا۔ معاہدے کا محور دفاعی صنعت میں اشتراک، مشترکہ پیداوار، تحقیق و ترقی، تکنیکی تربیت اور ٹیکنالوجی کی منتقلی بتایا گیا ہے۔

بی بی سی اردو کے مطابق پاکستان کی جانب سے اس مفاہمتی یادداشت پر وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے دستخط کیے اور اپنے ایکس اکاؤنٹ پر کہا کہ پاکستان قابلِ اعتماد شراکت داروں کے ساتھ دفاعی تعاون کو مضبوط کرنے کو بہت اہمیت دیتا ہے اور یہ یادداشت خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتی ہے۔

قطر کی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ اس فریم ورک میں متعلقہ وزارتوں کے علاوہ پاکستان کا دفاعی پیداواری ادارہ اور ترکی کا دفاعی صنعتی ادارہ بھی شامل ہیں۔ قطری بیان میں کہا گیا کہ معاہدہ اقتصادی طور پر بھی اہم ہے کیونکہ اس سے دفاعی صنعتی صلاحیتوں کو یکجا کر کے پیداوار اور باہمی تعاون بڑھایا جا سکے گا۔

انڈونیشیا نے ‘بدر’ کو قومی دفاعی صلاحیتوں کے فروغ کے لیے اہم قدم قرار دیا اور کہا کہ اس سے ٹیکنالوجی کی منتقلی، سرمایہ کاری، انسانی وسائل کی ترقی اور دفاعی سپلائی چین مضبوط ہوں گے۔ انڈونیشیا کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نبیل ملاچیلا نے بتایا کہ ‘بدر’ تین بنیادی شعبوں پر مشتمل ہے: تحقیق و ترقی اور ٹیکنالوجی کی منتقلی، دفاعی صنعتی تعاون، اور انسانی وسائل کی استعداد میں اضافہ۔

تجزیہ کاروں نے واضح کیا ہے کہ ‘بدر’ مفاہمتی نوعیت کی یادداشت ہے نہ کہ کسی دفاعی اتحاد کا پہلا مرحلہ۔ ترکی کے پروفیسر مصطفی جانیر نے بی بی سی سے کہا کہ مکہ دفاعی معاہدہ ایک باہمی دفاعی فریم ورک ہے جبکہ ‘بدر’ کا دائرۂ کار دفاعی صنعت اور پیداوار تک محدود ہے اور اس کی قانونی حیثیت نسبتاً نرم ہے۔ اسی طرح ایک اور تجزیہ کار عمر کریم نے کہا کہ ‘بدر’ کو ابتدائی شراکت داری سمجھا جانا چاہیے جو وقت کے ساتھ عملی تعاون میں بدل سکتی ہے۔

بی بی سی کے مطابق سعودی عرب نے تاحال ‘بدر’ ایم او یو پر کوئی باضابطہ عوامی بیان جاری نہیں کیا۔ معاہدے میں مستقبل میں دیگر دوست ممالک کے ساتھ تعاون کے امکانات کا جائزہ لینے اور باقاعدہ دفاعی صنعتی اجلاس منعقد کرنے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 2742