بلوچستان کا دعویٰ: گزشتہ دو برس میں 133 ارب روپے مالیت کی منشیات ضبط اور تلف، زیرو ٹالرنس پالیسی جاری

وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں منشیات کے خلاف زیرو ٹالرنس برقرار ہے اور گزشتہ دو برس میں 133 ارب روپے سے زائد مالیت کی منشیات ضبط اور تلف کی گئی۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت منشیات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر کاربند ہے اور نوجوان نسل کو منشیات سے بچانا پہلی ترجیح ہے۔ حکومت کے مطابق گزشتہ دو برس میں بلوچستان میں 133 ارب روپے سے زائد مالیت کی منشیات ضبط اور تلف کی گئی؛ کارروائیوں کے دوران 1,638 کلوگرام آئس (کرسٹل) اور 620 کلوگرام چرس قبضے میں لیے گئے۔

کوئٹہ — وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبائی انتظامیہ کی منشیات کے خلاف کاروائیوں کا جائزہ لیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے منشیات کے ناسور کے خاتمے کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کی ہے اور نوجوانوں کی حفاظت اولین ترجیح ہے۔

حکومت بلوچستان کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ دو برس کے دوران صوبے میں 133 ارب روپے سے زائد مالیت کی منشیات ضبط اور تلف کی گئی۔ اعلامیے میں شامل اعداد و شمار کے مطابق کارروائیوں کے دوران 1,638 کلوگرام آئس (کرسٹل) اور 620 کلوگرام چرس ضبط کیے گئے۔

میر سرفراز بگٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ منشیات کے خلاف جاری مہم میں متعلقہ اداروں کو مکمل صلاحیت اور وسائل فراہم کیے جا رہے ہیں تاکہ اسمگلنگ کے نیٹ ورک کو توڑا جا سکے اور ملک گیر خطرے سے نمٹا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ منشیات کی رسائی روکنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیاں تیز رکھی جائیں گی۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ ضبط شدہ منشیات کو ضابطے کے تحت تلف کیا گیا اور کارروائیوں میں شریک اداروں کے تعاون کو سراہا گیا، تاہم اعلامیے میں ان کارروائیوں کی تعداد، گرفتاریوں یا تفتیشی پیش رفت کی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔

حکومت کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کو منشیات سے بچانا قومی ترجیح ہونی چاہیے اور اس مقصد کے لیے آگاہی مہمات، کمیونٹی شراکت داری اور سخت انتظامی اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1519