بلاول بھٹو اور آصف زرداری نے بار بار مذاکرات کی کوششیں کیں لیکن ہر بار تاخیر کی وجہ سے ناکام ہوئیں

بلاول بھٹو زرداری اور صدر آصف علی زرداری نے حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کی کوششیں کیں، تاہم بار بار تاخیر کی وجہ سے گفت و شنید آگے نہیں بڑھ سکی اور مذاکرات کا امکان کم دکھائی دیتا ہے۔

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے حکومت اور پاکستان تحریکِ انصاف کے درمیان مذاکرات کے لیے بھرپور کوششیں کیں، مگر بار بار تاخیر کی وجہ سے بات چیت آگے نہیں بڑھی اور اب مذاکرات ہوتے دکھائی نہیں دے رہے، جس سے حکومت کے پاس آئینی راستوں کے سوا محدود اختیارات رہ گئے ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری اور صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان بات چیت شروع کروانے کے لیے کوششیں کیں، مگر ذرائع کے مطابق متواتر تاخیر کے باعث مذاکرات آگے بڑھانے میں ناکامی ہوئی۔

ذیل میں فراہم کردہ پیغام میں کہا گیا ہے کہ “چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کیں، لیکن بار بار تاخیر کے باعث مذاکرات آگے نہ بڑھ سکے۔”

بشارتِ ماخذ یہ بھی بتاتی ہے کہ “اب مذاکرات ہوتے دکھائی نہیں دے رہے، جس کے باعث حکومت کے پاس آئینی اقدامات کے سوا محدود راستے ر…”۔ اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ فی الوقت مذاکرات کے از سرِ نو ہونے کا فوری امکان کم دکھائی دیتا ہے اور اس صورتحال نے حکومتی اختیار کے اطلاق کے اختیارات کو بھی محدود ترجیحی راستوں تک محدود کر دیا ہے۔

پی پی پی کی جانب سے شائع کردہ پیغام میں ناکامی کی وجہ خاص طور پر بار بار ہونے والی تاخیر کو قرار دیا گیا ہے، تاہم مزید تفصیلات یا اگلے ممکنہ اقدامات کا حوالہ موجودہ مواد میں دستیاب نہیں۔

فراہم شدہ متن میں مستقبل کے فیصلوں یا کسی مخصوص آئینی اقدام کی نوعیت واضح نہیں کی گئی، اس لیے اس وقت صرف اتنا کہا جا سکتا ہے کہ بیچ میں طے پانے والی گفت و شنید فی الوقت متحرک نظر نہیں آتی اور معاملہ آئینی دائرے تک محدود رہنے کا تاثر دے رہا ہے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 2854