سرحدی علاقوں میں تشدد میں اضافہ ہوا، ایران جنگ مسلح گروہوں کے لیے موقع فراہم کر سکتی ہے، ماہرین

ڈی ڈبلیو کے مطابق ایران، پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں حملوں اور مسلح جھڑپوں میں اضافہ ہوا ہے؛ ماہرین کہتے ہیں ایران کی جنگ علاقے میں مسلح گروہ مستفید کر سکتی ہے۔

(ویب ڈیسک) ایران، پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں حملوں اور مسلح جھڑپوں میں واضح اضافہ درج کیا گیا ہے، ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ ایران میں جاری جنگ اس خطے کی سکیورٹی صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔

ایرانی صوبے سیستان و بلوچستان، پاکستان کے صوبے بلوچستان اور سرحدی افغان علاقوں میں حالیہ ہفتوں میں حملوں، ٹارگٹ کلنگ اور مسلح جھڑپوں میں اضافہ سامنے آیا ہے۔ ڈی ڈبلیو اردو کے مطابق ایران کے جنوب مشرقی صوبے زاہدان اور سرحدی شہروں میں یہ واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایران کی جنگ سے پیدا شدہ سکیورٹی کمزوریوں کا فائدہ علاقائی مسلح گروہ اٹھانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ اٹلی میں مقیم صحافی مہدی نخل احمدی نے کہا ہے کہ بدلتی ہوئی سکیورٹی صورت حال کے باعث مسلح گروہوں کی کارروائیوں کے طریقے اور رابطہ کاری میں تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔

خطہ طویل المدت معاشی محرومی اور بنیادی ڈھانچے کی کمی کا شکار ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دونوں جانب کی بلوچ آبادی میں بے چینی دہائیوں پرانی ہے اور معاشی، تعلیمی اور پانی کی قلت جیسے مسائل کشیدگی کی وجوہات میں شامل ہیں۔ اسی پس منظر میں کچھ مسلح تنظیمیں سرگرم ہیں جن میں سے بعض بلوچستان کی آزادی کا مطالبہ کرتی ہیں، البتہ ماخذ کے مطابق فی الحال سرحد پار مربوط تعاون کے واضح شواہد موجود نہیں۔

قابل ذکر ہے کہ دسمبر 2025ء میں ایران کی متعدد بلوچ تنظیموں نے ’’پاپولر فائٹرز فرنٹ‘‘ کے نام سے اتحاد قائم کیا تھا جس کا مقصد مبصرین کے مطابق ان کی سیاسی اور عسکری سرگرمیوں میں ہم آہنگی پیدا کرنا تھا۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ موجودہ حالات اس اتحاد کو اپنے آپ کو مضبوط کرنے کا موقع دے سکتے ہیں۔

پاکستان کی طرف سے بھی تشدد میں اضافہ نوٹس کیا گیا ہے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلیکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کے اعداد و شمار کے مطابق ستمبر میں بلوچستان میں 131 مسلح حملے ریکارڈ ہوئے جبکہ اگست میں یہ تعداد 89 تھی، جو بڑھتی ہوئی کارروائیوں کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

رپورٹ میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ اگرچہ یہ کہنا مشکل ہے کہ ایران میں جنگ کی وجہ سے سرحدی تشدد میں اضافہ براہِ راست ہوا ہے، تاہم حملوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اس غیر مستحکم علاقے کی سکیورٹی صورتحال میں بگاڑ کی نشاندہی کرتی ہے۔ ماہرین زور دیتے ہیں کہ کشیدگی کے مکمل ادراک کے لیے علاقائی معاشی اور سماجی محرومیوں پر بھی توجہ درکار ہے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 2742