پاور ڈویژن کے افسروں کو مفت بجلی کی بجائے فی یونٹ 30 روپے نقد ملیں گے

وفاقی حکومت نے پاور ڈویژن کے بی ایس-17 تا بی ایس-21 افسران کے لیے مفت بجلی بند کر کے فی یونٹ 30 روپے نقد ادائیگی کا فیصلہ کیا؛ مختلف گریڈز کے لیے مخصوص ماہانہ رقم مقرر کی گئی۔

وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ پاور ڈویژن کے بی ایس-17 تا بی ایس-21 گریڈ کے افسروں کو مفت بجلی بند ہونے کے بعد فی یونٹ 30 روپے نقد ادا کیے جائیں گے، یہ اقدام ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد متعارف کرایا گیا، اور پاور ڈویژن نے اِس کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

پروپاکستانی کے ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ وفاقی حکومت نے نئی سکیم کے تحت فی یونٹ ادائیگی 30 روپے رکھی ہے جبکہ حکام نے ہر گریڈ کے لیے ایک طے شدہ ماہانہ ادائیگی کا حساب بھی جاری کیا ہے جس کے مطابق بی ایس-17 کے افسر کو 450 یونٹس کے بدلے 15 ہزار 858 روپے جبکہ بی ایس-18 کے افسر کو 600 یونٹس کے بدلے 21 ہزار 990 روپے ملیں گے۔ بی ایس-19 کے افسر کو پہلے کے 880 مفت یونٹس کی جگہ 37 ہزار 594 روپے اور بی ایس-20 گریڈ کے افسر کے لیے 1,100 یونٹس کی سابقہ رعایت کی جگہ 46 ہزار 992 روپے جبکہ بی ایس-21 کے افسران کو 55 ہزار 536 روپے ادا کیے جائیں گے۔

یہ فیصلہ ہائیکورٹ کے حکم کے بعد مفت بجلی کی سپلائی روکنے کے بعد سامنے آیا ہے جس کا پاور ڈویژن نے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے جو مفت بجلی کی سہولت ختم کرنے اور نقد ادائیگی کے میکانزم کو نافذ کرنے کی تصدیق کرتا ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق نئی ادائیگی سابقہ نظام کی جگہ لے گی جس کے تحت اہل افسروں کو مقررہ تعداد میں بجلی کے یونٹس بلا معاوضہ دیے جاتے تھے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1519