اسلام آباد ہائیکورٹ میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کی درخواست دائر

اسلام آباد ہائی کورٹ میں 16 سال سے کم بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کی درخواست دائر کی گئی ہے، جس میں والدین کنٹرول، پلیٹ فارمز کی ذمہ داری اور قانون سازی کا مطالبہ شامل ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ بچوں کو آن لائن بدسلوکی، استحصال اور نقصان دہ مواد سے تحفظ کے لیے قانون سازی کی جانی چاہئے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدالت والدین اور سوشل میڈیا پلیٹ فارموں کی ذمہ داری کا تعین کر کے فریم ورک تیار کتنے کی ہدایت بھی کرے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرائی گئی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پاکستان میں کم عمر بچوں کو آن لائن سائبر بُلیئنگ اور حراسگی کے علاوہ بلیک میلنگ اور دیگر ڈیجیٹل خطرات سے بچانے کے لیے ایک واضح قانونی فریم ورک درکار ہے۔ درخواست دہندگان نے کہا ہے کہ قانون بنانے سے والدین کو بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر کنٹرول ملے گا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اپنی مخصوص ذمہ داریاں نبھائیں گے۔

درخواست میں اقوامِ متحدہ کے کنونشن برائے حقوق اطفال اور ڈیجیٹل ماحول میں بچوں کے حقوق پر جنرل کمنٹ نمبر 25 کا حوالہ دیا گیا ہے جسے بچوں کے آن لائن بنیادی حقوق کا اہم دستاویز قرار دیا جاتا ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ ریاست کے آئینی اور قانونی فرائض میں بچوں کے بہترین مفادات، رازداری اور ڈیجیٹل حقوق کا تحفظ شامل ہے۔

درخواست گزار وکیل یحییٰ فرید خواجہ نے بی بی سی نیوز اُردو سے گفتگو میں کہا کہ اُن کا بنیادی مطالبہ قانون سازی کا ہے، آسٹریلیا، برطانیہ اور یورپی ممالک میں بچوں کے آن لائن تحفظ کے لیے قوانین وضع ہو چکے ہیں، بالکل اُسی طرح پاکستان میں بھی اسی نوعیت کے قوانین بنائے جانے چاہئیں۔ دوسرے وکیل فرید خواجہ نے مطالبہ کیا کہ 16 سال سے کم عمر نوجوانوں کی سوشل میڈیا تک رسائی مکمل طور پر روکی جائے اور سوشل میڈیا پلیٹ فارموں کو اکاؤنٹ بناتے وقت عمر کی تصدیق کے موثر اقدامات کرنے پر مجبور کیا جائے۔

اُن کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا کے استعمال کی اجازت ہو تو بھی انتہائی محدود پیمانے پر کڑی نگرانی اور ریگولیٹری فریم ورک کے تحت ہونی چاہئے۔ اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان میں آن لائن سیفٹی کے لیے واضح قانون موجود نہیں ہے جبکہ آف لائن جرائم کے خلاف قوانین موجود ہیں۔

درخواست میں دیگر ممالک کے قوانین کے نمونوں کا بھی ذکر ہے جیسا کہ آسٹریلیا نے 2024ء میں مختلف پلیٹ فارموں پر 16 سال سے کم نوجوانوں کے اکاؤنٹس پر پابندی سے متعلق قانون منظور کیا تھا۔ برطانوی ادارہ چائلڈ ایکسپلوئٹیشن اینڈ آن لائن پروٹیکشن کمانڈ کے مطابق کئی مقبول سوشل میڈیا سائٹس کے لیے کم از کم حدِ عمر 13 سال مقرر ہے۔

گذشتہ برس سینیٹ میں سوشل میڈیا (حدِ عمر برائے صارفین) 2025ء نامی ایک بِل پیپلز پارٹی کے سینیٹروں سرمد علی اور مسرور احسن نے پیش کیا تھا، تاہم وہ قوانین تاحال منظور نہیں ہو سکے۔ سینیٹر مسرور احسن کے مطابق بِل میں خامیاں تھیں، اسے بہتر بنا کر سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد دوبارہ ایوان میں پیش کیا جائے گا۔

عدالت میں دائر یہ درخواست بچوں کی آن لائن حفاظت کے قانونی فریم ورک پر بحث کو آئندہ ماہ ہونے والی سماعت میں مزید تقویت دے سکتی ہے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1516