10 اگست 2026 کو اسلام آباد میں ‘The Language of the Eastern Silk Road’ کے عنوان سے ایک تجرباتی چینی زبان و ثقافت کورس کا آغاز ہوا۔ افتتاحی تقریب کے مہمانِ خصوصی وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگ زیب خان خچی تھے۔ اس پروگرام کا مقصد پاکستان اور چین کے درمیان ثقافتی تبادلے کو مضبوط بنانا اور نوجوانوں کو زبان اور روایات سے روشناس کروانا ہے، جس میں تقریباﹰ 50 پاکستانی اور چینی شرکاء حصہ لے رہے ہیں۔
اسلام آباد میں منعقدہ افتتاحی تقریب میں بتایا گیا کہ یہ کورس شرکاء کو چینی زبان، خوشخطی (کالیگرافی)، روایتی تہوار اور چینی ثقافت کے دیگر پہلوؤں سے متعارف کرائے گا۔ پروگرام کو بطورِ تجربہ جاری رکھا جائے گا تاکہ مستقبل میں اس کے دائرہ کار اور نتائج کا اندازہ لگایا جا سکے۔
تقریب میں شرکت کرنے والے تقریباﹰ 50 پاکستانی اور چینی شرکاء کو مختلف سیشنز کے ذریعے عملی اور نظریاتی تربیت دی جائے گی، جن میں زبان کی بنیادی مشقیں، ثقافتی مباحثے اور کالیگرافی کی ورکشاپ شامل ہیں۔ اس اقدام کو دونوں ممالک کے درمیان عوامی سطح پر رابطے بڑھانے کی کوشش کے طور پر پیش کیا گیا۔
وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگ زیب خان خچی نے کہا کہ ثقافتی اور لسانی تبادلے پاکستان-چین تعلقات کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے زبان کو تہذیبوں کے درمیان ایک پل قرار دیا جو اقوام کے درمیان پائیدار اعتماد قائم کرنے میں معاون ہوتی ہے۔
وزیر نے اس پروگرام کو نوجوانوں کے درمیان طویل المیعاد ثقافتی تبادلے کے لئے ایک پلیٹ فارم قرار دیتے ہوئے شرکاء پر زور دیا کہ وہ چینی زبان اور ثقافت کے بارے میں مزید جان کر پاکستان-چین دوستی کے سفیر بنیں۔ خچی نے پاک چین دوستی کی مناسبت سے کہا کہ یہ دوستی “higher than the mountains, deeper than the oceans and sweeter than honey.” ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ اس کورس کے آئندہ سیشنز میں مزید تعلیمی مواد اور ثقافتی تبادلوں کے مواقع شامل کیے جانے کا امکان ہے، تاہم پروگرام کی تفصیلات اور مدت کے بارے میں حتمی معلومات آئندہ اعلانات میں فراہم کی جائیں گی۔
افتتاحی تقریب کا اہتمام مقامی سطح پر کیا گیا اور اسے دو طرفہ ثقافتی روابط کو فروغ دینے کی ایک ابتدائی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔




