ٹینیسی میں لیتھل انجیکشن سے بچ جانے والی کرسٹا پائیک نے پہلا بیان جاری کر دیا

اسکائی نیوز کے مطابق، ٹینیسی میں لیتھل انجیکشن کے دوران زندہ رہنے والی 50 سالہ قیدی کرسٹا پائیک نے واقعے کے بعد اپنا پہلا بیان جاری کر دیا ہے۔

(ویب ڈیسک) اسکائی نیوز کے مطابق، ٹینیسی میں گزشتہ ماہ لیتھل انجیکشن کے دوران موت سے بچنے والی 50 سالہ قیدی کرسٹا پائیک نے اس واقعے کے بعد اپنا پہلا بیان جاری کر دیا ہے۔

اسکائی نیوز نے کہا ہے کہ کرسٹا پائیک، جو موت کی سزا پر تھیں، گزشتہ ماہ متوقع طور پر 30 ستمبر کو ٹینیسی میں لیتھل انجیکشن کے ذریعے پھانسی پانے والی تھیں مگر وہ زندہ رہ گئیں۔ ادارے نے اطلاع دی ہے کہ واقعے کے بعد پائیک نے اپنا پہلا بیان جاری کیا ہے۔

رپورٹ میں پائیک کی عمر 50 سال بتائی گئی ہے اور انہیں ’’ڈیتھ رو‘‘ یعنی موت کی سزا کے قیدی کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اسکائی نیوز کے خلاصے میں مزید تفصیلات یا بیان کے متن کے حوالے سے اضافی مواد فراہم نہیں کیا گیا۔

اس اطلاع کا ماخذ اسکائی نیوز ہے اور پبلک ریکارڈ کے مطابق اگلے اقدامات یا قانونی عمل کے بارے میں اس وقت مزید تصدیق دستیاب نہیں ہے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 2773