خرم دستگیر اور حلیم عادل شیخ نے خیبر پختونخوا جرگے کے بعد عملی اقدام کا سوال اٹھایا

اسما شریفی کے مضمون میں خرم دستگیر اور حلیم عادل شیخ نے خیبر پختونخوا اسمبلی جرگے کے بعد اٹھائے گئے عملی اقدامات پر سوال اٹھائے، مضمون میں صوبے میں 37 خودکش حملوں اور 1180 شہادتوں کا حوالہ دیا گیا۔

لاہور (ویب ڈیسک) صحافی عاصمہ شیرازی کے مضمون میں خرم دستگیر اور راہنما مسلم لیگ نواز حلیم عادل شیخ نے خیبر پختونخوا اسمبلی کے جرگے کی یاد دلاتے ہوئے پوچھا کہ جرگے کے بعد کون سے عملی اقدامات کیے گئے اور مضمون میں کہا گیا ہے کہ صوبے میں 37 خودکش حملے ہوئے اور 1180 لوگ شہید ہو چکے ہیں۔

صحافی ea کے مضمون میں بتایا گیا ہے کہ خرم دستگیر اور حلیم عادل شیخ نے خیبر پختونخوا اسمبلی کے منعقدہ جرگے کا حوالہ دیتے ہوئے صوبائی حکومت سے سوال اٹھایا کہ جرگے کے بعد کون سے عملی اقدامات کیے گئے۔

مضمون میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ “صوبے میں 37 خودکش حملے ہو گئے 1180 لوگ شہید ہو گئے”اور اس حوالے سے صوبائی انتظامیہ کی کارکردگی پر تنقید کی گئی ہے کہ کیا جرگے کے بعد رویّہ تبدیل ہوا یا نہیں۔

مصنفہ نے مضمون میں استدلال پیش کیا کہ اگر جرگے کے بعد ٹھوس اقدامات نہیں کیے گئے تو کہیں ایسا نہ ہو کہ طالبان یا دیگر دہشت گرد وہاں پنپنے کے لیے سازگار ماحول پا رہے ہوں۔ مضمون میں اسی خدشے اور صورتحال پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

عاصمہ شیرازی کے مضامین میں پیش کیے گئے بیانات کو رپورٹ میں اسی تناظر میں پیش کیا گیا ہے؛ مضمون کے اندر حوالے اور سوالات براہِ راست ان مبصرین اور رہنماؤں کی نشاندہی پر مبنی ہیں جن کا نام متن میں موجود ہے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 2802