بلوچستان کے علاقے ڈوکی میں آئی ای ڈی دھماکے میں تین بھائی ہلاک، رشتہ دار زخمی

ڈوکی کے کلی بختیر خان کے قریب عبورِ ندی کے دوران دور سے کنٹرول شدہ دست ساز بم کے دھماکے میں 3 بھائی ہلاک اور ایک رشتہ دار زخمی ہوگیا، پولیس نے تفتیش شروع کر دی۔

بلوچستان کے علاقے ڈوکی میں اتوار کو ایک دور سے کنٹرول کیے جانے والی آئی ای ڈی کے دھماکے میں تین بھائی موقع پر ہلاک جبکہ اُن کا ایک رشتہ دار زخمی ہو گیا۔ ضلعی پولیس نے بتایا کہ دھماکہ لونئی تحصیل کے کلی بختیر خان کے قریب ایک عارضی ندی پار کرتے ہوئے پیش آیا۔

ڈوکی کے سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) منصور احمد بزدار کا کہنا تھا لہ دھماکہ اُسوقت ہوا جب متاثرین ایک پک اپ گاڑی میں اپنی زمین کی طرف جا رہے تھے، گاڑی عارضی ندی عبور کر رہی تھی کہ آئی ای ڈی پھٹ گئی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکہ دور سے کنٹرول کئے جانے والی آئی ای ڈی سے کیا گیا تھا جو نامعلوم عناصر نے نصب کیا تھا۔ واقعے کے فوری بعد سکیورٹی فورسز اور پولیس موقع پر پہنچ گئیں جس کے بعد لاشوں اور زخمی کو ضلع ہیڈکوارٹر ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ واقعہ بلوچستان میں جاری دہشت گردی اور بدامنی کے تسلسل کے تاثر کے پس منظر میں ہوا۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ برائے کانفلیٹ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز (پی آئی سی ایس ایس) کی ماہانہ حفاظتی جائزہ رپورٹ کے مطابق گذشتہ ماہ بلوچستان میں مجموعی ہلاکتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جولائی میں صوبے میں اموات 372 تک پہنچ گئیں جو جون کے 109 کے مقابلے میں دو گُنا سے زائد ہیں۔ سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکتیں چھ سے بڑھ کر 62 یونی دس گُنا سے زائد جبکہ دہشت گردوں اور شہریوں کی ہلاکتوں میں بھی قابلِ ذکر اضافہ دیکھا گیا ہے۔

ڈوکی واقعے کی مزید تفصیلات اور ذمہ داروں کی شناخت کے لیے مقامی پولیس کی تحقیقات جاری ہیں۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1516