الیکشن کمیشن کے ڈائریکٹر جنرل شمشاد اختر ٹانک میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں جاں بحق

الیکشن کمیشن کے ڈائریکٹر جنرل شمشاد اختر کو ٹانک میں نامعلوم مسلح افراد نے نشانہ بنا کر قتل کر دیا؛ ای سی پی نے اسے ٹارگٹڈ کلنگ قرار دیا اور سرکاری ملازمین کی حفاظت کیلئے اقدامات کا مطالبہ کیا۔

ٹانک (سٹاف رپورٹر) الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کے ڈائریکٹر جنرل شمشاد اختر ہفتے کو خيبر پختونخوا کے ضلع ٹانک میں ایک دہشت گردانہ حملے میں شہید ہو گئے، جب نامعلوم مسلح افراد نے ان پر فائرنگ کی۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق شمشاد اختر کو ہدف بنا کر قتل کیا گیا۔ ریلیز نے مرحوم افسر کو ایک ایماندار، ضمیرمند اور وقف شدہ سرکاری ملازم قرار دیا اور کہا کہ ان کا کسی کے ساتھ ذاتی دشمنی کا کوئی معاملہ نہیں تھا۔

ای سی پی کے چیف الیکشن کمشنر، کمیشن کے اراکین، سیکرٹری اور دیگر عملے نے شہید کی وفات پر گہرا غم و افسوس ظاہر کیا اور مرحوم کے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کیا۔ ریلیز میں حکومتی اداروں سے مطالبہ کیا گیا کہ سرکاری ملازمین کو دہشت گردانہ حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں۔

واضح رہے کہ خيبر پختونخوا میں 2026 میں دیرینہ شدت پسندی برقرار رہی ہے اور صوبے کے جنوبی اضلاع بشمول ٹانک، بنوں، لکی مروت اور ڈیرہ اسماعیل خان سیکورٹی کے سنگین ہاٹ اسپاٹس بن چکے ہیں۔ اسی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنوری تا جولائی 2026 کے درمیان صوبے اور قبائلی اضلاع میں 156 پولیس اہلکار دہشت گرد حملوں میں جاں بحق ہوئے۔

عسکریت پسندوں نے حملوں میں ڈرونز، تھرمل امیجنگ اور نائٹ وژن جیسی جدید تکنیکیں بھی استعمال کرنی شروع کر دی ہیں، جس سے سیکورٹی چیلنج مزید پیچیدہ ہو گئے ہیں۔

ای سی پی کی درخواست کے مطابق حکومت کو فوری طور پر سرکاری اہلکاروں کی حفاظت کے لیے اقدامات بڑھانے اور متاثرہ اضلاع میں انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 2782