لاہور (ویب ڈیسک) یورپی کمیشن کے صدر نے کہا ہے کہ انہوں نے آج صدر زیلنسکی سے بات کی اور زیلنسکی کی ایسی جنگ بندی کی اپیل کی کھل کر حمایت کی جو یوکرین اور روس میں عالمی خوراک اور توانائی کے ڈھانچوں کا تحفظ کرے، ادارے کے پیغام میں یہ بھی کہا گیا کہ جنگ ایک نئے، زیادہ سنگین مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔
یورپی کمیشن کے صدر نے اپنی مختصر پوسٹ میں لکھا کہ انہوں نے آج صدر زیلنسکی کے ساتھ ‘‘اچھی’’ بات چیت کی۔
پیغام میں کہا گیا کہ وہ ‘‘زیلنسکی کی جنگ بندی کی اپیل’’ کی مکمل طور پر حمایت کرتے ہیں، اور اس اپیل کا عندیہ دیا گیا کہ ایسی جنگ بندی یوکرین اور روس میں عالمی خوراک کی فراہمی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچوں کے تحفظ میں مدد دے گی۔
یورپی کمیشن کے صدر نے یہ بھی کہا کہ جنگ ‘‘ایک نئے، زیادہ سنگین مرحلے’’ میں داخل ہو چکی ہے اور کالعدم جملے میں وضاحت کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ روس میدان جنگ پر سست روی کا مظاہرہ کر رہا ہے اور شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔
یہ پیغام یورپی کمیشن کے صدر کی جانب سے جاری کیا گیا اور اس میں زیلنسکی کے جنگ بندی کے مطالبے کے حق میں کھلی حمایت ظاہر کی گئی ہے۔ دیے گئے بیان کا متن اور مقتطفات یورپی کمیشن کے صدر کے شائع شدہ پیغام سے لئے گئے ہیں۔




