فرانس میں مظاہروں کے بعد پیرس، لیل اور نیس کے بعض علاقوں میں کرفیو نافذ، ہنگامی حالت کے نفاذ کا امکان

فرانس میں حکومت مخالف مظاہروں کے بعد پیرس، لیل اور نیس کے بعض علاقوں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے اور وزیرِاعظم نے ہنگامی حالت کے نفاذ کو خارج از امکان قرار نہیں دیا۔

لاہور (ویب ڈیسک) فرانس میں حکومت مخالف ملک گیر مظاہروں کے دوران پیرس، لیل اور نیس سمیت کئی شہروں کے بعض علاقوں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے اور وزیرِاعظم سیباستیان لوکورنو نے ہنگامی حالت کے نفاذ کو خارج از امکان قرار نہیں دیا۔

فرانس میں حکومتی خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج اور ہنگاموں کے بعد حکام نے پیرس، لِیل اور نیس کے بعض علاقوں میں مقامی سطح پر کرفیو نافذ کر دیا ہے۔ مظاہروں کے دوران لوٹ مار اور تشدد کے واقعات کے باعث سکیورٹی انتظامات کو سخت کرنا پڑا۔

وزیراعظم سیباستیان لوکورنو نے کہا ہے کہ فی الحال مخصوص علاقے میں جزوی کرفیو مناسب ہے لیکن انہوں نے ہنگامی حالت کے نفاذ کو بھی قطعی طور پر خارج از امکان قرار نہیں دیا۔ لوکورنو نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا، “امن و امان بحال کرنے کے لیے میرا عزم غیر متزلزل ہے۔” انہوں نے بعض حالات میں ایمرجنسی کا آپشن برقرار رکھا ہوا ہے۔

حکومت نے کچھ مظاہروں میں انتہائی بائیں بازو کے گروپوں کو بدامنی پھیلانے کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ ان الزامات پر صدارتی امیدوار ژاں لوک میلونشوں نے وزیرِاعظم سے ثبوت مانگے اور کہا کہ انہیں معافی مانگنی چاہیے۔

ہفتے کے اختتام پر ملک گیر احتجاج میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکلے، مظاہرین نے مہنگائی اور عوامی خدمات کے معیار میں کمی کے خلاف ناراضگی ظاہر کی۔ تجارتی اور ریٹیل سیکٹر کی فیڈریشن نے کہا کہ ہنگاموں کے دوران تقریباً 3,000 دکانیں متاثر ہوئیں اور متاثرہ کاروباروں کے لیے سماجی تحفظ اور ٹیکس ریلیف کا مطالبہ کیا ہے۔

اسی رپورٹ میں سوڈان اور جنوبی سوڈان کے متنازع علاقے ابیئی میں ایک بازار پر ڈرون حملے کا واقعہ بھی شامل ہے جس کے نتیجے میں عبوری وزیرِ اطلاعات کے بقول “تقریباً 73 افراد ہلاک اور 19 زخمی” ہوئے۔ عبوری وزیر نے حملے کا الزام سوڈانی فوج پر عائد کیا ہے مگر اس دعوے کے حق میں کوئی ثبوت رپورٹ میں پیش نہیں کیا گیا۔

فرانسیسی حکام نے بڑی اجتماعات سے دور رہنے اور حفاظتی احتیاط برتنے کی ہدایت جاری کر رکھی ہے، جبکہ سیاسی رہنماؤں اور سکیورٹی حکام کے درمیان الزام تراشیاں اور ثبوت کے مطالبات جاری ہیں۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 2775