لاہور (ویب ڈیسک) رائوف کلاسرا لکھتے ہیں کہ دو سال قبل علی امین گنڈاپور نے اسلام آباد چڑھائی کے دوران ورکرز کو ‘کفن پہن کر آ جاؤ’ اور ‘مارو یا مر جاؤ گے’ جیسے سخت بیانات دئیے تھے، مگر حالیہ لانگ مارچ شروع ہونے سے پہلے وہ کہتے ہیں کہ ‘کوئی پتھر یا اینٹ تک نہیں مارے گا۔’
رائوف کلاسرا کی تحریر کے مطابق، دو سال قبل علی امین گنڈاپور نے اسلام آباد کی جانب پیش قدمی کے دوران ایسی زبان استعمال کی جو طاقت اور جارحیت کا تاثر دیتی تھی۔ کلاسرا لکھتے ہیں کہ اس دوران گنڈاپور نے اپنا ‘جنازہ پڑھنے کی وصیت’ بتائی، کارکنان کو ‘کفن پہن کر آ جاؤ’ کہا اور ‘مارو یا مر جاؤ گے’ جیسے جملے کہے۔
کلاسرا حوالہ دیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ وہی رہنما اُس وقت ‘سومنات پر حملہ کرنے جا رہے ہیں’ اور ‘اسلام آباد پر قبضہ کر لیں گے’ جیسے بیانات دے چکے تھے۔ یہ بیانات عینی اظہارِ آمادگی اور جارحانہ لحن کو ظاہر کرتے ہیں، جو ذرائعِ صفحہ کے بقول اُن کے ماضی کے بیانات کا حصہ رہے۔
تاہم، لکھاری نوٹ کرتے ہیں کہ حالیہ لانگ مارچ شروع کرنے سے قبل گنڈاپور نے ایک مختلف انداز اپنایا اور شرکا کو یہ یقین دہانی کرائی کہ مارچ کے دوران ‘کوئی پتھر یا اینٹ تک نہیں مارے گا’ — یعنی پُرامن صورتِ حال کا اعادہ کیا گیا۔
رپورٹ میں تضاد کو نمایاں کیا گیا ہے: ایک طرف ماضی کے جارحانہ بیانات اور دوسری طرف مارچ سے پہلے پُرامن رہنے کی یقین دہانی۔ کلاسرا اس فرق کو سیاسی بیانیہ اور عوامی پیغام رسانی کے تناظر میں پڑھتے ہیں، مگر اصل اقتباسات اور رویوں کا حوالہ اُن کی تحریر میں موجود ہے۔
صفِ اول کے بیانات اور حالیہ الفاظ کے درمیان یہ فرق رائوف کلاسرا کے کالم کا مرکزی نقطہ ہے، جو گنڈاپور کے ماضی اور حال کے رویوں میں تضاد کی طرف اشارہ کرتا ہے۔




