گلگت بلتستان کے تحصیل ناصر آباد کے شینا گاؤں سمیت متعدد علاقوں میں دریائے سندھ کے کناروں پر سونا نکالنے کے لیے نصب بھاری مشینوں کے باعث زمینوں کے تیزی سے دریا برد ہونے اور ماحولیاتی خطرات کے خلاف مقامی آبادی اور سرکاری ادارے احتجاج کر رہے ہیں۔ مقامی رہائشی اور سرکاری دستاویزات مشینری کی بڑھتی موجودگی کو کٹاؤ، پلوں کی بنیادوں کو نقصان اور دریا کے بہاؤ میں تبدیلی کا سبب قرار دیتی ہیں۔
بی بی سی اردو کی رپورٹ کے مطابق شینا کے رہائشی باقر حسین کا کہنا ہے کہ جب سے دریائے سندھ کے کناروں پر دریائی مٹی سے سونا نکالنے والے افراد نے بھاری (ہیوی) مشینیں نصب کی ہیں تب سے اُن کی زرعی زمین تیزی سے دریا برد ہو رہی ہے۔ باقر بتاتے ہیں کہ ’اب تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے دریائے سندھ کا پانی روزانہ ہی اُن کی زمین کا کچھ نہ کچھ حصہ بہا کر ساتھ لے جا رہا ہے۔‘ انہوں نے کہا، ’میں نے متعلقہ اداروں کو درخواستیں بھی دی ہیں، مگر کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔‘
مقامی ویلیج کونسل کے صدر ممتاز علی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس صورتحال کے باعث اب تک کم از کم 40 کنال قابلِ کاشت زمین دریا برد ہو چکی ہے اور دریائے کناروں کو جگہ جگہ کھود کر گہرے گڑھوں اور جھیلوں جیسی شکل دے دی گئی ہے۔ اُن کے بقول شینا کی پوری آبادی مقامی ویلیج کونسل کی سربراہی میں اس مائننگ کے خلاف احتجاج کر رہی ہے اور یہ احتجاج ضلع نگر تک بھی پھیل چکا ہے۔
ماحولیات اور انسانی حقوق کے کارکن بابا جان نے خبردار کیا کہ گلگت بلتستان ’ماحولیاتی لحاظ سے حساس خطہ‘ ہے اور مشینری کے ذریعے سونا نکالنے سے تباہی بڑھ سکتی ہے۔ اُن کا کہنا تھا: ’ہم کچھ نہیں مانگتے۔ صرف یہ کہتے ہیں کہ ہمیں جینے کا حق دیا جائے۔… پہلے سونے وال قبائل ہاتھ سے یہ کام کرتے تھے۔ وہ لوگ صرف بیلچہ اور گنتی استعمال کرتے تھے… مگر اب تو تباہی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔‘
گلگت بلتستان کے محکمہ معدنیات کا کہنا ہے کہ تاحال کم از کم 77 لیز ایگریمنٹ جاری کیے جا چکے ہیں جن میں پانچ ایگریمنٹس غیر ملکی کمپنیوں کو دیے گئے ہیں جبکہ دیگر کمپنیاں مقامی ہیں۔ محکمہ کے ڈائریکٹر جنرل محمد زبیر نے بتایا کہ قانونی معاہدوں کے علاوہ غیر قانونی مائننگ بھی ہو رہی ہے اور حکومت اور متعلقہ محکمے مل کر پالیسی بنا رہے ہیں۔
سرکاری دستاویزات میں خدشات کے طور پر کناروں پر کٹاؤ، پُلوں کی بنیادوں کو پہنچنے والا ممکنہ نقصان، دریا کے قدرتی بہاؤ میں تبدیلی، ڈیموں میں مٹی و ریت کے جمع ہونے اور گلیشیئرز، جنگلات، قومی پارکس اور جنگلی حیات کو لاحق خطرات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ گذشتہ سال 27 جون کو ضلع استور کے بنجی کے نائب تحصیلدار نے بھی حکام بالا کو دریائی مائننگ کے بارے میں خصوصی رپورٹ بھیجی تھی۔
مقامی رہائشی اور سرگرم کارکن مطالبہ کر رہے ہیں کہ خطے میں ماحولیاتی حساسیت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے مائننگ کے قواعد و ضوابط سخت کیے جائیں اور مقامی لوگوں کے رہن سہن کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔




