گلگت (مانیٹرنگ ڈیسئوںک) گلگت بلتستان کے محکمہ سیاحت کے مطابق رواں سال (اپریل تا اگست) کے دوران 2,200 سے زائد غیر ملکی کوہ پیمائوں اور ٹریکروں نے علاقے کا دورہ کیا، کوہ پیمائی کا سیزن اگرچہ ختم ہو چکا ہے تاہم ٹریکنگ اکتوبر تک جاری رہے گی۔
گلگت بلتستان میں اس موسمِ گرما میں غیر ملکی مہم جوؤں کی تعداد میں خاطرخواہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ محکمہ سیاحت گلگت بلتستان کے ڈپٹی ڈائریکٹر ساجد حسین نے ڈان نیوز کو بتایا کہ اپریل سے اگست تک 2,200 سے زائد غیر ملکی کوہ پیماء اور ٹریکرز نے علاقے کا دورہ کیا۔
اُن کا کہنا تھا کہ غیر ملکی مہم جو نے دنیا کے بلند ترین پہاڑ چڑھنے اور محدود علاقوں میں ٹریکنگ کی جن میں کے ٹو (8,611 میٹر)، نانگا پربت (8,126 میٹر)، براڈ پیک (8,047 میٹر)، گاشر برم-اول (8,080 میٹر) اور گاشر برم-دوم (8,035 میٹر) شامل ہیں۔
اُن کا مزید کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کے معروف سیاحتی مقامات اور کھلے زون والے علاقوں میں مقامی و غیر ملکی سیاحوں کا رش جاری ہے جبکہ کھلے زون علاقوں میں آنے والے غیر ملکی سیاحوں کو اجازت ناموں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ متعلقہ حکام کا کہنا تھا کہ بہار، گرمی اور خزاں کے موسم میں مختلف ممالک سے آنے والے غیر ملکی سیاح اس سال 10 ہزار سے تجاوز کر جانے کی توقع ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اِس سال موسمِ گرما میں آنے والے غیر ملکی مہم جو گزشتہ سال سے زائد ہیں باوجود اِس کے کہ مشرقِ وسطیٰ کے واقعات اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ نے سیاحوں کے آنے پر منفی اثرات مرتب کیے۔ کوہ پیمائی کا سیزن اب ختم ہو چکا ہے تاہم ٹریکروں کی آمد کے ٹریکنگ راستے، بشمول کے ٹو بیس کیمپ کا راستہ اکتوبر تک کھلا رہے گا۔
گلگت بلتستان حکومت نے 30 جون تک مہماتی اور ٹریکنگ اجازت ناموں سے 35 کروڑ روپے حاصل کیے۔
الپائن کلب آف پاکستان کے صدر ریٹائرڈ میجر جنرل عرفان ارشد خان کا کہنا تھا کہ اِس سال بین الاقوامی سیاحوں میں اضافہ حوصلہ افزا ہے حالانکہ مشرق وسطیٰ کے تناؤ، ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور دیگر عوامل کے باوجود یہ اضافہ نظر آیا۔ اُ:نہوں نے نشاندہی کی کہ سیاحت گلگت بلتستان کے لوگوں کے لیے روزگار کا ذریعہ ہے اور مقامی لوگ پورٹرز، ہوٹل مالکان، ٹرانسپورٹرز اور دکانداروں کے ذریعے لاکھوں ڈالر براہِ راست کما رہے ہیں۔
عرفان ارشد خان نے کہا کہ جنگ اور سفری مشوروں کی وجہ سے کئی ممالک نے اپنے شہریوں کو پاکستان جانے سے منع کیا اور بعض اوقات غیر ملکیوں کے اجازت ناموں کے اجراء میں تاخیر بھی ہوئی، ورنہ غیر ملکی مہم جو اس سے بھی زیادہ ہو سکتے تھے۔




