گورنر راج کے فوراً بعد خیبرپختونخوا میں کابینہ کا اعلان، راوف کلاسرا: تیاری کئی ہفتوں کی معلوم ہوتی ہے

راوف کلاسرا کا کالم کہتا ہے کہ گورنر راج کے فوراً بعد خیبرپختونخوا میں کابینہ کا فوری اعلان اس بات کا ثبوت ہے کہ متوقع وزیروں سے رابطے اور ایجنسی کلئرنس پہلے سے چل رہے تھے۔

لاہور (سٹاف رپورٹر) راوف کلاسرا لکھتے ہیں کہ گورنر راج لگتے ہی خیبرپختونخوا میں فوراً کابینہ ممبران کا اعلان اس بات کا اشارہ ہے کہ متوقع وزیروں سے رابطے، ان کی رضامندی اور ایجنسیوں سے کلئرنس خفیہ طور پر پہلے سے چل رہی تھیں۔

راوف کلاسرا نے لکھا ہے کہ گورنر راج کے اعلان کے فوراً بعد جو طریقے سے کابینہ کے ارکان کا اعلان کیا گیا، اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ یہ تیاریاں کئی ہفتوں سے جاری تھیں۔

مصادر کے مطابق، متوقع وزیروں سے رابطے کیے گئے، ان کی رضامندی لی گئی اور ایجنسیوں سے کلئرنس اور سکروٹنی کا عمل بھی ہوا، جو مصنف کے بقول خفیہ انداز میں چل رہا تھا۔

کلاسرا نے سوال اٹھایا ہے کہ گورنر راج کا فیصلہ دراصل کب کیا گیا تھا اور یہ عمل کب سے شروع ہوا۔ انہوں نے سینئر اینکر منیب فاروق کے حوالے سے بھی اشارہ کیا کہ شاید اُن کے پاس اس بارے میں جواب موجود ہوگا۔

یہ تجزیاتی کالم صورتِ حال کو پہلے سے طے شدہ تیاری کے طور پر پیش کرتا ہے، مگر متن میں براہِ راست کسی فرد یا ادارے کی طرف سے تصدیق شدہ دستاویزات یا باضابطہ بیانات شامل نہیں کیے گئے۔

کالم میں اٹھائے گئے نکات حکومتی فیصلوں اور عملدرآمد کے پس پردہ طریقۂ کار پر شکوک و شبہات کا اظہار ہیں جن کی مزید تفتیش اور واضح شواہد درکار ہوں گے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 2801