لاہور (سٹاف رپورٹر) حکومت اور پاکستان تحریکِ انصاف کے درمیان بات چیت ہفتہ کو طے شدہ پانچ نکاتی مسوّدے کے بعد ناکام ہو گئی، جس میں خصوصاً خیبرپختونخوٰا میں دہشت گردی کے خلاف آپریشنز سے متعلق شقیں سب سے متنازع ثابت ہوئیں۔
حکام اور ذرائع نے ایک ہی ماخذ کے مطابق کہا ہے کہ حکومت اور پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) مذاکرات کا آغاز ایک پانچ نکاتی فریم ورک پر اتفاق کے بعد ہوا تھا، مگر بعدازاں بات چیت ٹوٹ گئی۔ فریم ورک میں مرکزی نکات میں جیل میں قید پی ٹی آئی کے بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ کو قانونی سہولیات فراہم کرنا، زیر التوا مقدمات کی جلد سماعت یقینی بنانا اور دونوں کو وکلاء اور اہلِ خانہ کے ساتھ ملاقاتیں دینے کا وعدہ شامل تھا۔
ماخذوں کے مطابق اس مسوّدے کا تیسرا نکتہ خاص طور پر عمران خان اور بُشرا بی بی کے قانونی و آئینی حقوق اور جیل مینوئل کے مطابق سلوک کو یقینی بنانے سے متعلق تھا۔ ابتدائی مسوّدہ پی ٹی آئی کے چئیرمین کے رہائشی مقام پر تیار کیا گیا اور اس پر مذاکرات سے قبل فریقین کو آگاہ کیا گیا تھا۔
تاہم سب سے بڑا اختلاف چوتھے نکتے پر سامنے آیا جو کہ خیبرپختونخوٰا میں بگڑتی ہوئی سیکیورٹی صورت حال سے متعلق تھا۔ تجویز کردہ فریم ورک میں صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے مشترکہ طور پر دہشت گردی کے خلاف کام کرنے کی بات کی گئی اور ممکنہ طور پر تین مربوط اضلاع میں آئینی آپشن کے تحت ایمرجنسی نافذ کر کے دہشت گردوں کی نقل و حرکات کنٹرول کرنے اور اس انتظام کے تحت ملٹری آپریشن کرنے کی شق رکھی گئی تھی۔
ذرائع نے بتایا کہ اگر صوبائی حکومت کسی فوجی آپریشن کی مخالفت کرے تو پولیس کے ذریعے کارروائی کی جا سکتی ہے اور فوج پولیس کی مکمل معاونت فراہم کرے گی۔ تاہم خیبرپختونخوٰا کی حکومت نے مسوّدے میں بار بار ترامیم مانگیں، اور صوبائی سطح پر سلامتی سے متعلق شقوں میں صوبائی سربراہِ حکومت نے اہم تبدیلیاں تجویز کیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اختلافات اور صوبائی رضامندی کے لیے پیش کیے جانے والے شرطی نکات بالآخر مذاکراتی مسوّدے کو ناکام بنانے کی وجہ بنے، جس کے نتیجے میں طے شدہ سمجھوتہ عمل میں نہ آ سکا۔




