لاہور: غلط ای چالان کی آن لائن نظرِثانی کیسے کروائیں

لاہور ٹریفک پولیس نے بتایا ہے کہ غلط جاری شدہ ای چالان پنجاب سیف سِٹیز اتھارٹی (پی ایس سی اے) کے پورٹل پر تلاش کر کے آن لائن نظرِثانی کروائی جا سکتی ہے؛ ہیلپ لائن 0322-5638888 ہے۔

لاہور ٹریفک پولیس نے بتایا ہے کہ جو موٹر سوار سمجھتے ہیں کہ انہیں غلط طور پر ای چالان جاری کیا گیا ہے وہ پنجاب سیف سِٹیز اتھارٹی (پی ایس سی اے) کے ای چالان پورٹل کے ذریعے آن لائن نظرِثانی کی درخواست دے سکتے ہیں۔ عمل کی تفصیل، تلاش اور درخواست جمع کروانے کے مراحل نیچے دیے گئے ہیں۔

لاہور ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ غلط ای چالان پر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، متاثرہ موٹر سوار پی ایس سی اے کے سرکاری ای چالان پورٹل کے ذریعے چالان تلاش کر کے اس کی نظرِثانی کروا سکتے ہیں۔ پورٹل پر آن لائن ریویو سہولت دستیاب ہے جو درخواست دہندہ کو متعلقہ چالان کی تفصیلات دیکھنے اور اعتراض داخل کرنے کی اجازت دیتی ہے۔

مرحلہ 1: ای چالان ویب سائٹ کھولیں

سرکاری پنجاب سیف سِٹیز اتھارٹی (پی ایس سی اے) کے ای چالان پورٹل پر جائیں۔ پورٹل ہی وہ جگہ ہے جہاں ای چالان کی معلومات اور نظرِثانی کا فارم دستیاب ہوتا ہے۔

مرحلہ 2: مطلوبہ معلومات درج کریں

پورٹل پر اپنی گاڑی یا متعلقہ معلومات درست طریقے سے درج کریں تاکہ متعلقہ ای چالان تلاش کیا جا سکے۔ درست تفصیلات درج کرنا ضروری ہے تاکہ مطلوبہ ریکارڈ سامنے آئے۔

مرحلہ 3: متعلقہ ای چالان تلاش کریں

ضروری معلومات داخل کرنے کے بعد اس چالان کو تلاش کریں جسے آپ غلط سمجھتے ہیں۔ تلاش شدہ ریکارڈ میں موجود معلومات کو اچھی طرح چیک کریں تاکہ کسی غلط فہمی سے بچا جا سکے۔

مرحلہ 4: ‘نظرِثانی’ بٹن پر کلک کریں

جب آپ متعلقہ ای چالان تلاش کر لیں تو پورٹل میں موجود “نظرِثانی” کے بٹن پر کلک کریں۔ اس سے آپ کو نظرِثانی کی درخواست کے مراحل تک پہنچا دیا جائے گا۔

مرحلہ 5: درخواست مکمل کریں

پورٹل پر دکھائی گئی ہدایات پر عمل کریں، درکار معلومات اور ثبوت مہیا کریں اور فارم جمع کروائیں۔ درست اور مکمل معلومات فراہم کرنا فیصلہ سازی میں معاون ثابت ہوگا۔

مرحلہ 6: نتیجے کا انتظار کریں

درخواست جمع کروانے کے بعد متعلقہ حکام آپ کے چالان کا جائزہ لیں گے اور آپ کو نظرِثانی کے نتیجے سے مطلع کیا جائے گا۔

مزید مدد یا رہنمائی کے لیے موٹر سوار لاہور ٹریفک پولیس سے فون نمبر 0322-5638888 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1539