نئی دہلی (ڈی ڈبلیو اردو) بھارت میں جنسی تشدد کے پے در پے واقعات نے ایک بار پھر خواتین کی سلامتی پر شدید سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جن میں گزشتہ ہفتے مبینہ طور پر ایک 17 سالہ لڑکی کے اجتماعی زیادتی کا واقعہ شامل ہے، ملک میں روزانہ اوسطاً 80 سے زائد زیادتی کی شکایات درج ہوتی ہیں اور سپریم کورٹ نے 28 ستمبر کو ازخود نوٹس لے کر حفاظتی جائزہ اور اضافی گشت کی ہدایت جاری کی ہے۔
بھارت میں حالیہ جنسی تشدد کے واقعات نے عوام میں خوف اور غم و غصے کو جنم دیا ہے اور شہری مقامات پر بہتر تحفظ کے مطالبات زور پکڑ گئے ہیں۔ مقامی میڈیا کے مطابق نئی دہلی کے آستھا کنج پارک میں گذشتہ ہفتے ایک 17 سالہ لڑکی کو مبینہ طور پر تین افراد نے پولیس اہلکار ظاہر کر کے ایک سنسان حصے میں لے جا کر زیادتی کا نشانہ بنایا۔ اس کے بعد پارکوں اور عوامی مقامات پر سکیورٹی بڑھا دی گئی اور روشنی، نگرانی اور پولیس گشت میں اضافے جیسے فوری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
واقعے کی خبر کے چند روز بعد نئی دہلی میں سینکڑوں طلبہ اور شہری سڑکوں پر نکل آئے اور خاص طور پر خواتین نے بہتر حفاظتی انتظامات اور شبانہ تحفظ کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے کہا کہ خواتین کو رات کے وقت خوف کے بغیر باہر نکلنے کی آزادی ملنی چاہیے۔ بعض یونیورسٹیوں میں احتجاج کے پرتشدد رخ اختیار کرنے پر کلاسیں معطل اور امتحانات مؤخر کرنے کی اطلاعات بھی آئیں۔
ماہرین اور حقوقِ نسواں کی تنظیمیں بتاتی ہیں کہ یہ واقعات محض ایک شہر یا علاقے تک محدود نہیں اور ملک گیر صورتحال تشویشناک ہے۔ نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو کے اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں روزانہ اوسطاً 80 سے زائد زیادتی کے مقدمات درج ہوتے ہیں، جبکہ تنظیمیں کہتی ہیں کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ بہت سے واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔
حکومت اور عدالتی اداروں نے اس صورتحال پر ردعمل ظاہر کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے 28 ستمبر کو ازخود نوٹس لے کر دہلی پولیس کو حساس مقامات کی نشاندہی، گشت میں اضافہ اور پارکوں و عوامی مقامات پر روشنی اور سی سی ٹی وی نگرانی کا تفصیلی جائزہ لینے کی ہدایت دی۔ دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر نے خواتین اہلکاروں پر مشتمل خصوصی ”پنک فورس” بنانے کے احکامات بھی جاری کیے۔
تاہم حقوقِ نسواں کی تنظیموں اور سابقہ پولیس افسران کا کہنا ہے کہ مسئلے کی جڑ معاشرتی رویوں، پولیس اسٹاف کی کمی اور عدالتی تاخیر میں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ بہتر روشنیاں، منظم پارک، تربیت یافتہ محافظ اور سی سی ٹی وی نگرانی کے ساتھ ساتھ صنفی حساس شہری منصوبہ بندی بھی ضروری ہے تاکہ خواتین کا بنیادی اعتماد بحال ہو سکے۔ عدالت کی مقرر کردہ مدت کے بعد بھی یہ دیکھا جانا باقی ہے کہ آیا یہ اقدامات حقیقی تحفظ اور متاثرہ خواتین کا ضائع ہوا اعتماد واپس لانے میں کامیاب ہوں گے یا نہیں۔




