ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ انہوں نے ستمبر کے دوران دو امریکی زیرِ آب سمندری ڈرونز، ’ریمس 600‘ اور ’ڈائیو-ایل ڈی‘، ایک ماہ کے اندر قبضے میں لیے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے پہلے واقعے میں ٹیکنیکی خرابی کی تصدیق کی تھی۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے اعلان کیا ہے کہ حال ہی میں ایک امریکی سمندری ڈرون ’ریمس 600‘ قبضے میں لے لیا گیا، جس سے یہ ستمبر میں ایران کی جانب سے امریکی زیرِ آب ڈرونز کے قبضے کا دوسرا واقعہ قرار پاتا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کے دعوے کے مطابق پہلے واقعے میں 8 ستمبر کو آبنائے ہرمز میں ایک بڑے ماڈل ’ڈائیو-ایل ڈی‘ کو بھی قبضے میں لیا گیا تھا۔ ایرانی بیان میں کہا گیا ہے کہ قبضہ کردہ ڈرونز کو ’انٹیلی جنس نگرانی اور الیکٹرانک وارفیئر کے ذریعے‘ روکا گیا اور اب ایرانی ماہرین ان ڈیوائسز سے ڈیٹا اور معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
بی بی سی اردو کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے ایک ویڈیو بھی جاری کی جس میں مبینہ طور پر پانی سے نکالا گیا ڈرون دکھایا گیا ہے، تاہم اس کارروائی کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہو سکی اور ایران نے واضح نہیں کیا کہ یہ کارروائیاں کب انجام پائی تھیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے ایک ترجمان نے پہلے قبضے کے واقعے میں کہا تھا کہ وہ ڈرون ’ایک پرانا ماڈل‘ تھا اور اس میں حساس معلومات جمع کرنے والے خفیہ سینسر یا ریڈار نصب نہیں تھے، اور اس ڈرون میں تکنیکی خرابی واقع ہوئی تھی۔ ایران نے اس کے برعکس مؤقف اختیار کیا کہ ڈرون فعال اور آپریشنل تھا۔
ماہرین نے بتایا ہے کہ ’ڈائیو-ایل ڈی‘ یعنی ’لارج ڈسپلیسمنٹ ان مینڈ انڈر واٹر وہیکل‘ ایک بڑی خودکار زیرِ آب ڈرون ہے جسے امریکی کمپنی انڈیورل نے تیار کیا، اور اس میں طویل مدت مشنز اور گہرائی میں کام کرنے کی صلاحیت بتائی گئی ہے۔ دوسری جانب ریمس 600 کو امریکی کمپنی ایچ آئی آئی نے بنایا ہے؛ اسے 600 میٹر گہرائی تک کام کرنے، تقریباً 70 گھنٹے مشن انجام دینے اور 286 ناٹیکل میل تک آپریشنل رینج رکھنے کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔
ایران کا یہ دعویٰ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز اور خلیجی پانیوں میں دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی جاری ہے، اور پاسدارانِ انقلاب نے دوبارہ کہا ہے کہ وہ ’’خطرناک نقل و حرکت‘‘ اور ’’غیر مجاز راستوں‘‘ سے گزرنے والے جہازوں کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں۔




